کراچی (رفیق مانگٹ) امریکی سیاسی مبصر ٹکر کارلسن کے سوال پر نئی بحث چھڑ دی ہے کہ بائبل میں کہاں ہے کہ عیسائیوں پر اسرائیل کی حمایت کرنا لازم ہے؟اسرائیل کی غیر مشروط حمایت کی مذہبی بنیاد کیا ہے؟ کیتھولک اور آرتھوڈوکس چرچ بھی اسرائیل کی لازمی حمایت کے نظریے سے متفق نہیں۔ تفصیلات کے مطابق امریکی سیاسی مبصر ٹکر کارلسن نےکہا کہ اگر کوئی شخص اسرائیل کی حمایت کو بائبل کی تعلیمات سے جوڑتا ہے تو اسے یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ بائبل میں اسکی بنیاد کہاں موجود ہے۔ انکے مطابق اگر اس موضوع پر مذہبی یا الہٰیاتی نظریہ پیش کیا جا رہا ہے تو اس کی واضح دلیل بھی بائبل سے سامنے آنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ بعض لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ بائبل اسرائیل کے بارے میں بالکل واضح ہے، تاہم اصل سوال یہ ہے کہ بائبل میں جس اسرائیل کا ذکر ہے وہ دراصل کیا ہے اور اس کی تعریف کیا ہے۔ کارلسن کے مطابق اس سوال کا جواب دیے بغیر اسرائیل کی غیر مشروط حمایت کو مذہبی بنیاد دینا درست نہیں۔ امریکی مبصر نے مزید سوال اٹھایا کہ اگر بائبل میں بیان کردہ اسرائیل کو موجودہ دور پر لاگو کیا جائے تو یہ 2025 کی دنیا میں کس چیز سے مطابقت رکھتا ہے۔ کارلسن نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر بائبل کے اسرائیل کو موجودہ جغرافیہ سے جوڑا جائے تو اس کی سرحدیں کیا ہوں گی۔ کیا اس میں ویسٹ بینک شامل ہوگا یا نہیں۔ غزہ کا کیا مقام ہوگا ۔انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مطابق عیسائیوں کی طرف سے اسرائیل کی حمایت کو بائبل سے جوڑنے کا تصور کسی ایک شخص نے نہیں بنایا، بلکہ یہ ایک مذہبی و سیاسی نظریہ ہے جسے عیسائی صیہونیت کہا جاتا ہے۔ یہ نظریہ زیادہ تر 19ویں صدی کے پروٹسٹنٹ مبلغین، بعد میں امریکی ایوینجیلیکل چرچز اور جدید مذہبی تنظیموں نے فروغ دیا ۔