انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اپنی نئی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے جنوبی لبنان کے رہائشی علاقوں میں سفید فاسفورس استعمال کیا جو بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہے۔
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق تصدیق شدہ تصاویر سے معلوم ہوا ہے کہ 3 مارچ کو جنوبی لبنان کے قصبے یُحمر میں اسرائیلی فوج نے توپ خانے سے داغے گئے سفید فاسفورس کے گولے فضا میں پھاڑے جس کے بعد کم از کم 2 گھروں میں آگ لگ گئی۔
عرب میڈیا کے مطابق ہیومن رائٹس واچ کے لبنان کے محقق رمزی قیس نے دعویٰ کیا ہے کہ رہائشی علاقوں پر سفید فاسفورس کا استعمال انتہائی خطرناک اور غیر قانونی ہے اور اس کے نتیجے میں شہریوں کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ کیمیائی مادہ آکسیجن کے ساتھ رابطے میں آتے ہی جل اٹھتا ہے اور گھروں، کھیتوں اور دیگر املاک کو آگ لگا سکتا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق ہیومن رائٹس واچ تنظیم نے تصاویر کی تصدیق اور جغرافیائی مقام کی نشاندہی کی ہے جس میں فضا میں پھٹنے والے گولوں سے نکلنے والا دھواں ایم 825 سیریز کے 155 ملی میٹر سفید فاسفورس گولوں سے مشابہت رکھتا ہے۔
مقامی اسلامک ہیلتھ کمیٹی کی سول ڈیفنس ٹیم کی جانب سے جاری تصاویر میں کارکنوں کو گھروں کی چھتوں اور ایک گاڑی میں لگی آگ بجھاتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔
ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ اسرائیل کو فوری طور پر رہائشی علاقوں میں اس ہتھیار کے استعمال کو روکنا چاہیے، تنظیم نے امریکا، برطانیہ اور جرمنی سمیت اسرائیل کے اتحادیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو اسلحے کی فروخت معطل کر دیں۔
ادھر لبنان کی نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق اسرائیل نے پیر کے روز بیروت کے جنوبی مضافات میں غبیری اور حارہ حریک سمیت مختلف علاقوں پر فضائی حملے کیے۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ اسرائیلی حملوں میں لبنان میں اب تک 394 افراد شہید اور 1000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں جبکہ 5 لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور ہیں۔