• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسٹیٹ بینک کا شرح سود 10.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان، مہنگائی 7 فیصد تک پہنچ گئی

کراچی (این این آئی)اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ 10.50فیصد کی سطح پر برقرار رکھنے کا اعلان کردیا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے اجلاس میں آئندہ ڈیڑھ ماہ کیلئے شرح سود کا تعین کیا۔زری پالیسی کمیٹی کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی جنگ سے معاشی صورتحال انتہائی غیر یقینی ہوگئی ے، مہنگائی 7 فیصد تک پہنچ گئی، زرمبادلہ ذخائر 16.3 ارب ڈالر ہوگئے، جی ڈی پی نمو کا ہدف 3.75 تا 4.75 فیصد پورا ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق مانیٹری پالیسی کمیٹی کےاجلاس میں مشرقِ وسطی میں جاری جنگ اور توانائی کے عالمی بحران کے پاکستان کی معیشت پر اثرات کا گہرائی سے جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں پالیسی ریٹ کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اگرچہ موصولہ اعداد و شمار جنوری میں منعقدہ اجلاس کے بعد فراہم کیے گئے کلی معاشی تخمینوں سے کافی حد تک مطابقت رکھتے تھے تاہم کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ مشرق وسطی میں جنگ کے آغاز کے بعد کلی معاشی صورت حال کافی غیر یقینی ہو گئی ہے۔ زری پالیسی کمیٹی نے نوٹ کیا کہ مشرق وسطی کے تنازعے نے ایندھن کی عالمی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ کیا ہے، ساتھ ہی باربرداری اور بیمے کے اخراجات بھی بڑھ گئے ہیں ، جبکہ اس کی وجہ سے سرحد پار تجارت اور سفری سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ ان واقعات کی بدلتی نوعیت کے پیشِ نظر ، کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ تنازعے کی شدت اور دورانیہ دونوں ہی ملکی معیشت پر پڑنے والے اثرات کے اہم عوامل ہوں گے۔ اس حوالے سے کمیٹی نے دھچکوں کیخلاف معیشت کی مزاحمت بڑھانے میں محتاط زری و مالیاتی پالیسیوں کے اہم کردار کو تسلیم کیا۔ موجودہ جغرافیائی و سیاسی واقعات کے علاوہ، زری پالیسی کمیٹی نے اپنے آخری اجلاس کے بعد سے درج ذیل اہم واقعات کو نوٹ کیا۔ پہلا، جنوری 2026 میں مہنگائی بڑھ کر 5.8 فیصد اور فروری میں مزید بڑھ کر 7 فیصد تک پہنچ گئی ۔

اہم خبریں سے مزید