کراچی(رفیق مانگٹ)برطانوی اخبار کے مطابق ٹرمپ کا ایران میں فوجی حکمت عملی کا وینزویلا ماڈل ناکام، مجتبیٰ خامنہ ای کے انتخاب نے ٹرمپ کی خواہش کو ناکام کر دیا،ایران کی قیادت اب بھی مضبوط ایران میں کوئی تیار شدہ جانشین موجود نہیں تھا، رضا پہلوی کی قیادت کی خواہش وائٹ ہاؤس نے نظر انداز کی،صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران میں فوجی مداخلت کی حکمت عملی وینزویلا میں کامیابی کی بنیاد پر تیار کی گئی تھی، لیکن ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے انتخاب نے امریکی صدر کی خواہش کو بری طرح ناکام کر دیا ہے کہ وہ ایران کے رہنما کا انتخاب خود کر سکیں۔فنانشل ٹائمز کے مطابق ٹرمپ کے ایران کے خلاف جنگی فیصلے پر ان کے وینزویلا میں فوجی کامیابی کے تجربات کا گہرا اثر تھا۔ وینزویلا میں صدر نیکولس مادورو کو گرفتار کرنے اور نائب صدر ڈیلسی روڈریگِز کو نیا رہنما بنانے کی کارروائی ٹرمپ کے نزدیک ایک شاندار اور مؤثر فوجی کارنامہ تھی، جس سے انہیں وینزویلا کے تیل تک رسائی کا موقع ملا۔ٹرمپ نے اسی ماڈل کو ایران پر نافذ کرنے کی کوشش کی اور بتایا کہ انہیں ایران کے اگلے رہنما کے انتخاب میں بھی مداخلت کرنی چاہیے، جیسا کہ وینزویلا میں ڈیلسی کے معاملے میں کیا۔ تاہم ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کے نئے سپریم لیڈر کے طور پر انتخاب نے ٹرمپ کی توقعات کو ختم کر دیا۔اسرائیل شاید خامنہ ای کو ہٹانے کی کوشش کرے، لیکن تب بھی ایران کی مستقبل کی قیادت کا تعین ٹرمپ کے ذریعے ہونے کا امکان کم ہے۔ ایران میں کوئی تیار شدہ جانشین موجود نہیں تھا، جیسا کہ وینزویلا میں ڈیلسی روڈریگِز کے لیے تھا، اور وائٹ ہاؤس نے سابق شاہ کے بیٹے رضا پہلوی کی قیادت کی خواہش میں دلچسپی بھی کم دکھائی۔ٹرمپ کے مطابق ایران کے نظام میں کہیں کوئی عملی شخص موجود ہو سکتا ہے جو امن اور ذاتی معاوضے کے بدلے امریکی منتخب رہنما کے کردار کو قبول کرے، لیکن ایسا شخص ایران کے نئے سپریم لیڈر کو تبدیل کرنے اور اقتدار برقرار رکھنے کا کوئی واضح راستہ نہیں رکھتا۔اس ناکامی کی وجہ سے ایران میں وینزویلا کی طرح ریجیم الٹر نیشن یا امریکی دوست قیادت کو نصب کرنے کی حکمت عملی کامیاب نہیں ہو سکی۔