اسلام آباد (خالد مصطفیٰ) پاکستان کی تیل کی سپلائی چین (رسد کا سلسلہ) شدید دباؤ کا شکار ہے، کیونکہ پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کی جانب سے ایندھن کی درآمد کے لیے حال ہی میں طلب کیے گئے ٹینڈر میں کسی بھی کمپنی نے دلچسپی ظاہر نہیں کی اور کوئی بولی موصول نہیں ہوئی۔ یہ صورتحال مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جیو پولیٹیکل کشیدگی کے باعث خلیجی ممالک سے جہاز رانی (شپنگ) کے عمل میں پیدا ہونے والے بڑھتے ہوئے تعطل کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس صورتحال کے ردعمل میں، تیل کی صنعت نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان پر زور دیا ہے کہ ایندھن کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے عارضی طور پر پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد کو سی آئی ایف( لاگت، انشورنس اور فریٹ) کی بنیاد پر کرنے کی اجازت دی جائے۔ آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل نے 9 مارچ 2026 کو اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد کے نام لکھے گئے ایک خط میں خام تیل، ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات، بیس آئل اور متعلقہ مواد کی درآمد میں آسانی پیدا کرنے کے لیے دو ماہ کی ریگولیٹری چھوٹ (رعایت) طلب کی ہے۔ صنعتی تنظیم کا کہنا ہے کہ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری محاذ آرائی کے باعث عالمی سطح پر تیل کی بحری ترسیل کی مارکیٹ انتہائی غیر مستحکم ہو چکی ہے، جس نے خلیج فارس میں سیکورٹی کے خطرات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔