اسلام آباد (محمد صالح ظافر، خصوصی تجزیہ نگار) آج (ہفتہ) ’’نومئی‘‘ کی تیسری برسی ہے اسی روز تحریک انصاف کے رہنمائوں اور کارکنوں نے منظم منصوبہ بندی کے تحت مسلح افواج کے راولپنڈی ہیڈکوارٹر (جی ایچ کیو) سمیت ملک بھر میں تینوں افواج کی تنصیبات پر حملے کئے تھے انہیں لوٹ مار کے ذریعے تاخت و تاراج کیا تھا اور شہداء کی یادگاروں کی بے حرمتی کی گئی تھی۔ مبصرین نے 9؍مئی کو تحریک انصاف کا ’’واٹر لو‘‘ قرار دے رکھا ہے جس کے بعد اس کی پہچان سیاسی نہ رہی اور اسے پاکستان اور اس کے نظریئے سے اپنا تعلق ثابت کرنے کے لئے سخت دشواریوں کاسامنا ہے۔ سیاسی مبصرین نے نو مئی سے ایک روز قبل یہاں جنگ /دی نیوزکو بتایا ہے کہ تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی گرفتاری کے خلاف اس ملک گیر ردعمل کے لئے مہینوں سے تیاری کی گئی تھی جس کے لئے ذمہ داریاں تحریک انصاف کی عدم اعتماد کے ذریعے حکومت گرنے کے فوری بعد تفویض کردی گئی تھیں وہ تین سال سے اس سے نکلنے کے لئے کوششیں کررہی ہے۔ اس کے بیرون ملک موجود سوشل میڈیا کے ہرکارے بھارتیوں اور پاکستان کے دوسرے دشمنوں سے ساز باز کرکے لگاتار اپنی کہانی کونیا رنگ دینے کے لئے کوشاں رہتے ہیں وہ بھارتی فوج کی ہمنوائی کرتے ہوئے کبھی اسے فالس فلیگ آپریشن ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ فالس فلیگ کے لئے عالمی شہرت بھارت اور اسرائیل کے سوا کسی دوسرے ملک کو حاصل نہیں۔ مبصرین کا دعویٰ ہے کہ عمران خان کے اس بیان کو کیونکر فراموش کیا جاسکتا ہے جس میں اس نے اپنی گرفتاری کے ردعمل کے طورپر کہا تھا کہ اسے جب رینجرز نے گرفتار کیاتھا تو وہ اپنا احتجاج کرنے اور ناراضگی دکھانے کے لئے کہاں جاتے۔