کراچی (محمد منصف) واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن سمیت دیگر بلدیاتی ادارے صوبائی حکومت کے ماتحت کرنے کے خلاف کیس کی فائل سرکاری وکیل سے مبینہ طور پر گم ہوگئی ، مفاد عامہ کی کیس فائل نہ ملنے پر عدالت عالیہ نے سوال اٹھایا تو سرکاری وکیل جواب گول مول کر گئے، عدالت نے 16اپریل تک جواب جمع کرانے کی مہلت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔دوران سماعت جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کے وکلاء نے موقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ اختیارات کا فارمولا طے کردیا ہے، حکومت سندھ نے نئی ترمیم کا کہا تھا، ابھی تک ترمیم نہیں کی گئی۔سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس یوسف علی سعید کی سربراہ میں دق رکنی بینچ کے روبرو بااختیار شہری حکومت کیلئے سندھ لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ کے خلاف جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کی دائر آئینی درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ سرکاری وکیل نے کہا کہ کیس کی فائل نہیں مل سکی ہے اسلئے تیاری بالکل بھی نہیں ہے لہٰذا کیس کو سمجھنے اور پیروی کیلئے تیار ہونے کی مہلت دی جائے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا مطلب ہے کیس کی فائل مسنگ ہے؟ سرکاری وکیل نے ٹھیک طرح سے جواب دینے کے بجائے کہا کہ 3 برس بعد کیس سماعت کیلئے مقرر ہوا ہے مہلت دی جائے تو کیس کی فائل کے ساتھ جواب بھی جمع کروا دیا جائیگا۔ جماعت اسلامی کے وکیل بیرسٹر صلاح الدین احمد نے کہا کہ 2021 میں سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترمیم کی گئی۔ ترمیم کے ذریعے بہت سے شعبے شہری حکومت سے صوبائی حکومت منتقل کیئے گئے۔ ایم کیو ایم کے وکیل نے کہا کہ بلدیاتی قوانین کے بارے میں سپریم کورٹ بھی فیصلہ جاری کرچکی ہے۔ سپریم کورٹ نے اختیارات کی تقسیم کا فامولہ طے کردیا ہے۔ بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ حکومت سندھ نے سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں نئی ترمیم کرنے کا کہا تھا۔ ابھی تک کوئی نئی ترمیم نہیں کی گئی۔ عدالت نے سماعت 16 اپریل تک ملتوی کردی۔