ملتان (سٹاف رپورٹر)صوبہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہارٹیکلچر اتھارٹی ملتان کی مارکیٹنگ برانچ عملی طور پر مفلوج ہونے کا سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے جہاں نان ٹیکنیکل افسران کی تعیناتی، مبینہ مالی مفادات اور انتظامی نااہلی کے باعث ادارے کا پورا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے، صورتحال اس قدر خراب ہو چکی ہے کہ ڈپٹی ڈائریکٹر سمیت ماتحت عملے نے منیجنگ ڈائریکٹر اور ڈائریکٹر مارکیٹنگ کے احکامات ماننے سے بھی کھلے عام انکار کر دیا جس کے بعد ادارے میں بغاوت جیسی فضا پیدا ہو گئی ہے،بتایا جاتا ہے کہ 10 مارچ کو منیجنگ ڈائریکٹر سید وسیم حسن کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں مارکیٹنگ برانچ کو ادارے کی آمدن بڑھانے اور اشتہاری معاملات منظم کرنے کیلئے متعدد اہم ذمہ داریاں سونپی گئیں،تاہم ڈپٹی ڈائریکٹر سلیم اختر نے دفتر آنے میں تاخیر کے بعد کام کرنے سے انکار کر دیا، اس واقعہ کے بعد ڈائریکٹر مارکیٹنگ عدنان بٹ نے ڈپٹی ڈائریکٹر کے خلاف سرکاری احکامات کی عدم تعمیل اور دفتری نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر انکوائری شروع کر دی ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ غیر متعلقہ افسران کی تعیناتی کے باعث مارکیٹنگ برانچ کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے جس سے ادارے کی ممکنہ آمدن بھی خطرے میں پڑ گئی ہے، ادھر ملازمین اور ایڈورٹائزنگ کمپنیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مارکیٹنگ برانچ میں فوری اصلاحات کر کے تجربہ کار افسران کو تعینات کیا جائے تاکہ ادارے کا نظام بہتر بنایا جا سکے۔