اسلام آباد(رپورٹ:،رانا مسعود حسین) سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کے سابق چیئرمین ، عمران خان کے خلاف وزیر اعظم میاں شہباز شریف کی درخواست پر لاہور کی ٹرائل کورٹ میں زیر سماعت 10 ارب روپے کے ہتک عزت کے مقدمہ میںʼʼ حق دفاع کے خاتمہʼʼ سے متعلق مقدمہ کی سماعت کے دوران ٹرائل پرپہلے سے ہی جاری حکم امتناع کو برقرار رکھتے ہوئے مزید سماعت 7 اپریل تک ملتوی کر دی ،جسٹس عائشہ اے ملک کی سربراہی میں جسٹس ہاشم کاکڑ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل تین رکنی بینچ نے جمعرات کے روزکیس کی سماعت کی تو بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے موقف اختیار کیا کہ قانون کے مطابق حق دفاع ختم کرنے کے لیے مدعی میاںشہباز شریف کو باقاعدہ درخواست دائر کرنی چاہیے تھی ،لیکن اس کیس میں ایسی کوئی درخواست دائر نہیں کی گئی ،ٹرائل کورٹ نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے میرے موکل کاحق دفاع ختم کیا ،حالانکہ قانون میں ٹرائل کورٹ کو اس قسم کا کوئی اختیار حاصل نہیں ،انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا حقِ دفاع محض ایک ماہ کے دوران مختصر تاریخیں دے کر ختم کیا گیا ،جس پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ بانی پی ٹی آئی نے اپنا ابتدائی جواب چار سال کی تاخیر سے جمع کرایاتھا،تو فاضل وکیل نے جواب دیا کہ چار سال تک تو عدالت کے دائرہ اختیار سے متعلق قانونی بحث جاری رہی ،جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ کیا جواب میں تاخیر پر عدالت نے کوئی جرمانہ یا ایکشن لیا تھا؟ تو فاضل وکیل نے نفی میں جواب دیا۔