کراچی(رفیق مانگٹ)مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کو مذہبی جنگ قرار دینے کی مہم،جنگ کو ʼمسلمان بمقابلہ عیسائیʼ رخ دینے کا خدشہ، امریکی مبصر کے مطابق امریکہ میں بااثر حلقے مذاہب کے درمیان تصادم کی فضا پیدا کر رہے ہیں،دنیا میں عیسائی ڈھائی ارب، مسلمان دو ارب جبکہ یہودی ڈیڑھ کروڑ ،کوئی بڑا مذہبی تنازع ہوا تو وہ براہِ راست مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان نہیں ہوگا،مذہبی تنازع کی صورت میں عیسائی اور مسلم دنیا کے تصادم کا خدشہ،مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیانیہ خطرناک نتائج لا سکتا ہے۔امریکی ریپبلکن سینیٹر کے مطابق ایران اور اسرائیل تنازع مذہبی جنگ کی نوعیت اختیار کر سکتا ہے،امریکہ میں بعض سیاسی حلقوں کی جانب سے مذہبی منافرت کو ہوا دینے کی کوششوں پر تشویش بڑھ گئی ہے۔ معروف صحافی اور تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کو مذہبی رنگ دیا گیا تو یہ عالمی سطح پر بڑے مذہبی تصادم کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔امریکہ کے معروف صحافی اور سیاسی مبصر ٹکر کارلسن نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کے بعض بااثر سیاسی حلقے مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس سے عالمی سطح پر مذہبی تصادم کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔