• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پنجاب، عادی مجرموں اور معاشرتی برائیوں کیخلاف سخت قانون کی تیاری

لاہور( آصف محمود بٹ )پنجاب میں عادی مجرموں اور معاشرتی برائیوں کیخلاف سخت قانون کی تیاری۔ پنجاب حکومت نے مختلف نوعیت کے معاشرتی جرائم اور بدنظمیوں کے تدارک کے لیے ایک جامع قانون کی جلد منظوری کے لیے پنجاب اسمبلی میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ الیکٹرانک نگرانی، پاسپورٹ و بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے، منقولہ جائیداد ضبط کرنے یا غیر منقولہ جائیداد منسلک کرنے اور سفری پابندیوں کی تجاویز ۔صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی انٹیلی جنس کمیٹیاں قائم ہونگی، خلاف ورزی پر4 سال قید ، بھاری جرمانے،جھوٹی خبریں یا افواہیں پھیلانا بھی قابل کارروائی ۔پنجاب کنٹرول آف نارکوٹک سبسٹینسز ایکٹ کے تحت تمام جرائم بھی اس قانون کے دائرے میں شامل ،قانون پورے پنجاب میں نافذ العمل ہوگا۔"جنگ" حاصل دستاویزات کے مطابق “پنجاب ہیبیچول آفینڈرز اینڈ اینٹی سوشل بیہیویئرز ایکٹ 2026ء”کے عنوان سے تیار کیے گئے اس مجوزہ قانون کا مقصد عادی مجرموں کی مؤثر نگرانی اور ایسے اقدامات کی روک تھام کے لیے قانونی فریم ورک فراہم کرنا ہے جو ریاستی رٹ کو چیلنج کریں، عوامی امن و امان میں خلل ڈالیں یا معاشرے کو جرائم کی طرف دھکیلیں۔مسودہ قانون کے مطابق صوبائی سطح کی انٹیلی جنس کمیٹی کے کنوینر سیکریٹری محکمہ داخلہ ہوں گے جبکہ اس میں انسپکٹر جنرل پولیس/پروونشل پولیس آفیسر، ایڈیشنل انسپکٹر جنرل اسپیشل برانچ، ایڈیشنل انسپکٹر جنرل کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ، اسپیشل سیکریٹری محکمہ داخلہ، وفاقی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے نمائندے اور ایڈیشنل سیکریٹری (انٹرنل سکیورٹی) محکمہ داخلہ بطور رکن سیکریٹری شامل ہوں گے۔

اہم خبریں سے مزید