• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خلیجی ممالک کو درکار اشیائے خوردونوش کی فراہمی اور ان کے غذائی تحفظ کا خیال رکھا جائے، وزیراعظم

اسلام آ باد (رانا غلام قادر) وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ خلیجی ممالک کو درکار اشیائے خوردونوش کی فراہمی اور ان کے غذائی تحفظ کا خیال رکھا جائے،ملکی غذائی ضروریات کو متاثر کئے بغیر وافر مقدار میں موجود اشیاء خورونوش کی خلیجی ممالک میں برآمد کیلئے جامع لائحہ عمل تشکیل دیا جائے، ملکی غذائی ضروریات کیلئے اشیاء خورونوش کی طلب و رسد کی مکمل نگرانی کی جائے۔ وزیر اعظم نے یہ ہدایت اتوار کے روز اپنی زیر صدارت خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر ملک میں غذائی صورتحال اور وافر اشیاء کی برآمدت پر بلائے گئے جائزہ اجلاس کے دوران دی۔وزیرِ اعظم نےبرادر خلیجی ممالک میں تعینات سفیران و ٹریڈ افسران کو متحرک رہنے کی ہدایت کی ۔ اجلاس کو دی گئی بریفنگ میں بتایاگیا کہ پاکستان میں اشیاءِ خورونوش کا وافر ذخیرہ موجود ہے۔ کسی بھی چیز کی قلت نہیں۔ وزیر اعظم نے اس موقع پر کہا کہ عالمی سپلائی چینز متاثر ہونے سے خطے میں پاکستانی مصنوعات کی برآمد کی استعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت دی کہ موجودہ صورتحال میں خلیجی ممالک کو درکار اشیاء خورونوش کی فراہمی اور انکے غذائی تحفظ کا خیال رکھا جائے۔ پاکستانی غذائی ضروریات کو متاثر کئے بغیر وافر مقدار میں موجود اشیاء خورونوش کی خلیجی ممالک میں برآمد کیلئے جامع لائحہ عمل تشکیل دیا جائے۔برادر خلیجی ممالک میں اشیاء خورونوش کی برآمد کرتے وقت اعلی معیار یقینی بنایا جائے۔پی این ایس سی بحری راستے کے ذریعے برادر خلیجی ممالک میں اشیاء خورونوش برآمد کرنے کیلئے ضروری اقدامات کرے۔اجلاس کو ملک میں موجود اشیاء خورونوش کے موجودہ ذخائر اور پیداوار پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان کے زرعی شعبے بشمول زرعی اجناس، گوشت، پولٹری، ڈیری اور سی-فوڈ میں برآمد کی وسیع استعداد موجود ہے۔ وزیرِ اعظم نے اس حوالے سے کمیٹی تشکیل کرنے کی ہدایت کر دی جو روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کا جائزہ لے گی۔ اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزراء جام کمال خان، رانا تنویر حسین، احد خان چیمہ، معاون خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی. اجلاس میں صوبائی چیف سیکرٹریز اور متعلقہ شعبے کی نجی ایسوسی ایشنز کے نمائندگان نے بھی شرکت کی۔ دریں اثناء وزیر اعظم شہباز شریف کی زیرصدارت ہو نے والے اجلاس کے فیصلہ کی روشنی میں کابینہ ڈویژن نے مزید کفایت شعاری اور ایندھن بچت اقدامات اور ان کی مانٹرنگ کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ نو ٹیفیکیشن کے تحت اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز، خودمختار و قانونی اداروں، ریگولیٹری اتھارٹیز کی اعلیٰ انتظامیہ کی تنخواہوں میں دو ماہ کیلئے کٹوتی ہو گی ۔چیف ایگزیکٹو افسران، ایگزیکٹو ڈائریکٹرز، ڈائریکٹرز اور سینئر مینیجرز کی مجموعی تنخواہ سے کٹوتی کا اطلاق ہوگا۔تین لاکھ سے دس لاکھ روپے مجموعی تنخواہ پر دو ماہ کیلئے 5 فیصد کٹوتی کی جائے گی ۔دس لاکھ ایک روپے سے بیس لاکھ روپے تک مجموعی تنخواہ پر 15 فیصد کٹوتی ہو گی ۔بیس لاکھ ایک روپے سے تیس لاکھ روپے تک مجموعی تنخواہ پر 25 فیصد کٹوتی نافذ ہو گی ۔تیس لاکھ روپے سے زائد مجموعی تنخواہ پر دو ماہ کیلئے 30 فیصد کٹوتی ہوگی ۔تنخواہوں سے کٹوتی کی تمام رقم وزیر اعظم آَسٹیریٹی فنڈ 2026 میں جمع کرائی جائیگی۔ وزارت خارجہ کو 23 مارچ 2026 پر استقبالیوں کے بجائے سادہ پرچم کشائی تقریبات منعقد کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔غیر ملکی مشنز پر بھی نان ای آر ای بجٹ میں 20 فیصد کمی اور دو روزہ تنخواہ کٹوتی کا اطلاق ہوگا۔

اہم خبریں سے مزید