کراچی(اسٹاف رپورٹر )سانحہ گل پلازہ کمیشن میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے تحریری جواب جمع کراتے ہوئے کہا کہ اگست 1979 میں کے ڈی اے نے ابتدائی بلڈنگ اپروول پلان جاری کیا تاہم ایس بی سی اے ریکارڈ روم میں اصل، ابتدائی فائل دستیاب نہیں اس لئے ابتدائی طور پر گل پلازہ میں تعمیرات کے لئے کتنی منزلیں منظور ہوئیں علم نہیں۔ 1998میں نظرثانی بلڈنگ پلان میں بیسمنٹ، گراؤنڈ اور تین بالائی فلور منظور ہوئے۔ نظر ثانی بلڈنگ پلان کے بی سی اے نے منظور کیا۔ 1998میں گل پلازہ میں 1043 دکانیں پلان کےتحت منظور ہوئیں۔ 2003 میں ایمنسٹی اسکیم کےتحت 1102 دکانوں کو ریگولرائز کیا گیا۔ گل پلازہ کی عمارت میں فائر سیفٹی اور انخلا کے راستوں کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔ عمارت کی آخری انسپکشن 22 فروری 2003 میں ریگولرائزیشن کے دوران ہوئی۔ معائنہ کے دوران خلاف ورزیاں سامنے آئیں، مگر ایمنسٹی اسکیم کے تحت ریگولرائز کردیا گیا۔ 1992 میں بھی گل پلازہ کے خلاف شوکاز نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ سیڑھیاں مختلف مقامات پر اور مسلسل کنفیگریشن میں بنائی گئی تھیں۔ آگ سے بچاؤ کی اسٹرکچرل مزاحمت کا جائزہ لینا ادارے کی ذمہ داری نہیں۔ عمارت میں کسی ممکنہ تبدیلی یا راستے بند ہونے سے متعلق وضاحت بلڈر اور بلڈنگ مینجمنٹ دیں گے۔ ایس بی سی اے تکمیل یا ریگولرائزیشن کے بعد دیکھ بھال کی ذمہ داری بلڈر اور سوسائٹی پر ہوتی ہے۔ دستیاب ریکارڈ کے مطابق 21 ستمبر 1998 کو 1043 دکانیں منظور کی گئیں۔ 22 فروری 2003 کو 1102 دکانیں ایمنسٹی اسکیم 2001-2002 کے تحت ریگولرائز کی گئیں۔