پیرس( نیوز ڈیسک) سستے مگر انتہائی مہلک ایرانی ساختہ شاہد (Shahed) ڈرونز مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کا باعث بنے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان ڈرونز میں اینٹی جیمنگ سمیت ایسی صلاحیتیں موجود ہیں جو انہیں روکنا مشکل بنا دیتی ہیں۔ہدف سے ٹکرا کر دھماکہ کرنے کے لیے تیار کیے گئے شاہد ڈرون عام طور پر پرواز سے پہلے یا آغاز کے فوراً بعد جی پی ایس کے ذریعے اپنی جگہ کا تعین کرتے ہیں اور پھر عموماً جی پی ایس ریسیور بند کر دیتے ہیں۔برطانیہ کے تحقیقی ادارے رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ (RUSI) کے محقق تھامس وِدِنگٹن کے مطابق اس کے بعد ڈرون طویل فاصلے تک جائرو اسکوپس کے ذریعے رفتار، سمت اور مقام کا اندازہ لگا کر سفر کرتے ہیں، جسے انرشیل نیویگیشن سسٹم کہا جاتا ہے۔