کراچی (نیوز ڈیسک) صدر ٹرمپ ایران جنگ کی حکمتِ عملی پر اپنے منتخب جنرل سے شدید ناراض ہیں۔ آبنائے ہرمز کھولنے میں تاخیر پر امریکی صدر کی برہمی، ایران کے ردِعمل نے جنگ کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ برطانوی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے میں تاخیر پر اپنے ہی منتخب کردہ اعلیٰ فوجی کمانڈر جنرل ڈین کین سے شدید ناراض ہوگئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق جنرل کین نے جنگ سے پہلے متعدد بار خبردار کیا تھا کہ ایران امریکی حملوں کے جواب میں اس اہم سمندری راستے کو بند کر سکتا ہے، تاہم ٹرمپ کا خیال تھا کہ ایران جلد ہتھیار ڈال دے گا اور اسے ایسا موقع ہی نہیں ملے گا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ آبنائے ہرمز بند ہونے کے باعث عالمی تیل کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے اور قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکی حکومت اس راستے کو کھولنے کے لیے ایک منصوبہ زیر غور لا رہی ہے جس کے تحت امریکی بحریہ تجارتی جہازوں کو حفاظتی حصار میں لے کر گزرنے کی اجازت دے گی، لیکن اس کے لیے مزید جنگی جہاز، دفاعی نظام اور ایرانی ہتھیاروں کے خلاف اضافی کارروائیاں درکار ہوں گی، جس میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔ اسی دوران ٹرمپ نے اتحادی ممالک سے مدد مانگنے کی کوشش بھی کی ہے جبکہ ایران خطے کے دیگر ممالک پر بھی حملوں میں اضافہ کر رہا ہے، جس سے جنگ کے مزید پھیلنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔