• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سی ای او واٹر کارپوریشن کی 14 غیر قانونی ہائیڈرنٹس کو قانونی حیثیت دینے کی سفارش

کراچی (محمد منصف )سی ای او واٹر کارپوریشن کی 14غیر قانونی ہائیڈرنٹس کو قانونی حیثیت دینے کی سفارش، سانحہ گل پلازہ کے آپریشن میں 7قانونی ہائیڈرنٹس سے پانی فراہم کیا گیا، دیگر ہائیڈرنٹس سے بھی باوزر طلب کئے گئے، فائر ہائیڈرنٹس کی فعالیت اور پانی کے پریشر واٹر کارپوریشن کے دائرہ اختیار میں نہیں، احمد علی صدیقی کی کمیشن میں رپورٹ۔ تفصیلات کے مطابق سانحہ گل پلازہ کمیشن میں سی ای او واٹر کارپوریشن احمد علی صدیقی نے شہر میں چلنے والے 14 غیر قانونی واٹر ہائیڈرنٹس کو قانونی حیثیت دینے کی سفارش کر دی۔ احمد علی صدیقی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ گل پلازہ میں آتشزدگی کے بعدآپریشن میں 7 قانونی ہائیڈرنٹس سے پانی فراہم کیا گیا۔ واٹر کارپوریشن کے فوکل پرسن کو آگ کی اطلاع 11 بجکر 13 منٹ پر موصول ہوئی۔ اطلاع ملتے ہی ہائیڈرنٹس پر ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے واٹر باوزر روانہ کئے گئے۔ ابتدائی طور پر نیپا، صفورا اور سخی حسن ہائیڈرنٹس سے باوزر روانہ کئے گئے۔ آگ کی شدت میں اضافے کے بعد دیگر ہائیڈرنٹس سے بھی باوزر طلب کئے گئے۔ رات 11 بجکر 56 منٹ سے مسلسل پانی کی فراہمی جاری رکھی گئی۔ فائر ہائیڈرنٹس کی فعالیت اور پانی کے پریشر واٹر کارپوریشن کے دائرہ اختیار میں نہیں۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ سانحہ گل پلازہ سے قبل فائر بریگیڈ کو ہائیڈرنٹس اور پانی کی فراہمی کیلئے خط لکھا تھا۔ 26 دسمبر کو لکھے گئے خط میں پانی کے ذخیرے کے لئے ٹینک کی تعمیر اور باقاعدہ کنکشن کے لئے درخواست دینے کی ہدایت کی گئی تھی۔ واٹر کارپوریشن کو تاحال فائر بریگیڈ کی جانب سے جواب موصول نہیں ہوا ہے۔ آپریشن کے دوران فائر بریگیڈ کی جانب سے 14 غیر قانونی ہائیڈرنٹس استعمال کیئے جانے پر کے ڈبلیو اینڈ ایس سی نے فوری طور پر ایف آئی آر درج کروا دی، جو قانونی و احتسابی طرز عمل کو ظاہر کرتا ہے۔

اہم خبریں سے مزید