اسلام آباد( خالد مصطفیٰ) پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت نے خبردار کیا ہے کہ بجلی کے شعبے میں موجود گہری ساختی خامیاں صنعتی صارفین کیلئے پیداوار کو غیر مسابقتی بنا رہی ہے، جس سے برآمدات اور صنعتی ترقی متاثر ہو رہی ہے۔آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کے چیئرمین کامران ارشد نے وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ اگرچہ حکومت کی جانب سے صنعتی ٹیرف میں کراس سبسڈی ختم کرنے کا فیصلہ ایک مثبت قدم ہے، تاہم بجلی کے نظام میں موجود مسائل اس ریلیف کو مؤثر ہونے سے روک رہے ہیں۔اپٹما کے مطابق حکومت نے صنعتی صارفین کے لیے بجلی کے نرخوں میں 4.04 روپے فی یونٹ کمی کی تھی، لیکن اس کا بڑا حصہ بعد کی ایڈجسٹمنٹس نے ختم کر دیا۔ 1.78 روپے فی یونٹ فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ اور 0.35 روپے فی یونٹ سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کے باعث صنعت کے لیے بجلی کی قیمت دوبارہ بڑھ کر تقریباً 12 سینٹ فی یونٹ تک پہنچ گئی ہے۔