• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹرمپ کا ایرانی صدر سے رابطہ؟ مہربانی یا پسپائی

نیو یارک (تجزیہ: عظیم ایم میاں)ٹرمپ کا ایرانی صدر سے رابطہ؟ مہربانی یا پسپائی، ایرانی مزاحمت مثالی، کیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنگ سے نکلنا چاہتے ہیں؟۔ تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے دھمکی دیتے ہوئے چند گھنٹوں کا نوٹس دیتے ہوئے ایرانی اہم تنصیبات پر حملے کا اعلان کیا تھا لیکن اب آئندہ چند روز کے لئے ایرانی تنصیبات پر حملہ کرنے کی دھمکی معطل کرتے ہوئے یہ جواز دیا کہ ایران سے مذاکرات میں اچھے اشارے ملے ہیں۔ ایران، امریکہ بات چیت کی تصدیق بھی دونوں طرف سے ضرور ہوئی لیکن موقف اور مذاکرات کے جواز میں دونوں ممالک کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایران کی تباہی اور امریکی کامیابی کا دعویٰ کرنے والے صدر ٹرمپ کا ایرانی صدر سے گفتگو کرنا اور چند گھنٹوں کے دھمکی آمیز نوٹس کے پورا ہونے کے باوجود ایرانی تنصیبات پر حملہ کو معطل کرنے کا اعلان عالمی اثرات کی حامل اس جاری جنگ کے دوران انتہائی معنی خیز اور اہم ہے کیونکہ مشرق وسطی میں اسرائیلی اور امریکہ کے مشترکہ حملوں اور بربادی کا سامنا کرنے والے تن تنہا ملک ایران کے خلاف اپنی کامیابیوں کا دعویٰ کرنے والے امریکی صدر ٹرمپ کے یہ بیانات اور اقدامات امریکہ کی کامیابیوں سے زیادہ اس جنگ میں امریکہ کو درپیش مشکلات اور مسائل کی نشاندہی کرتی ہے۔ صدر ٹرمپ کو ونیز ویلا میں حکمراں قائد کو لاکر امریکی جیل میں قید کرنے میں کامیابی کے بعد ایران پر حملے اور کامیابی کے ’’واک اوور‘‘ (Walk Over) کی توقعات کی بجائے امریکی صدر کو ایران پر تباہ کن حملوں کے باوجود جس ایرانی مزاحمت اور جوابی کارروائی کے لیے جس علاقائی جنگی حکمت عملی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اہم خبریں سے مزید