• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کا ابھرتا ہوا ثالثی کردار بھارت کیلئے گہرا سفارتی دھچکا

کراچی (رفیق مانگٹ ) امریکااور ایران کے درمیان حساس بیک چینل رابطوں میں پاکستان کا بطور اہم ثالث ابھرنا بھارت کیلئے ایک گہرا سفارتی اور سیاسی دھچکہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ایک ایسی حکومت کے لیے جس نے پاکستان کو الگ تھلگ کرنے اور نریندر مودی کی ذاتی قیادت میں بھارت کو ایک ناگزیر ʼوشوا گروʼ کے طور پر پیش کرنے پر اپنی ساکھ داؤ پر لگا رکھی ہے، یہ پیش رفت ایک سیاسی اور سفارتی تباہی سے کم نہیں۔ سفارتکاری میں پاکستان کے ہاتھوں پیچھے چھوڑ دیا جانا گہری قومی شرمندگی کا لمحہ ،مودی کا جغرافیائی سیاسی مسائل پر اسٹریٹجک خلا ، پاکستان نے اسے پورا کردیا ،بھارت کو جنگ کو ختم کرنے کی صلاحیت والا واحد ملک قرار دینا صرف قیاس ،پاکستان، ترکیہ اور مصر کا نیا سہ فریقی سفارتی بلاک ،بھارت نظرانداز ۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی اشاعتوں میں مضامین جو تجویز کرتے ہیں کہ مودی کا بھارت "اس جنگ کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک ہے" قیاس آرائیاں ہین دی وائر کے مطابق چھ وجوہات کیوں بطور امریکہ-ایران رابط کار پاکستان کا کردار بھارت کے لیے اسٹریٹجک دھچکا ہے۔مودی کی بصیرت پر مبنی خارجہ پالیسی نے بھارت کو اس وقت کنارے کر دیا ہے جب حقیقی سفارت کاری اہم ہوتی ہے۔یہ پیش رفت خاص طور پر نریندر مودی کی خارجہ پالیسی کیلئے ایک بڑی ناکامی سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ دہلی طویل عرصے سے پاکستان کو عالمی سطح پر غیر متعلق ثابت کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ مودی کی پاکستان کو الگ تھلگ کرنےکی پالیسی کا ناکام ہوگئی۔مودی کی خارجہ پالیسی کی بنیاد گزشتہ ایک دہائی سے یہ کوشش رہی کہ پاکستان کوہ سفارتی اعتبار سے غیر متعلق ثابت کیا جائے، اسے خطے کی ذمہ دار قیادت کے قابل نہ بنایا جائے۔

اہم خبریں سے مزید