کراچی( ثاقب صغیر ) گزشتہ15 برس کے دوران سرحدی علاقوں میں دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے،کمزور سرحدی نگرانی، ناقص حکمرانی والے علاقے اور قومی سرحدوں کے دونوں جانب جڑی ہوئی آبادی کواس دہشت گردی کےاسباب قرار دیا گیا ہے۔ 2025 میں سرحد سے 50 کلومیٹر کے اندر ہونے والے صرف 24 فیصد حملوں کی ذمہ داری قبول کی گئی جو 2013کے بعد سب سے کم شرح ہے۔امریکی تھنک ٹینک انسٹیٹیوٹ آف اکنامکس اینڈ پیس کی رپورٹ کے مطابق سرحدوں کے قریب ہونا جدید دہشت گردی کی ایک نمایاں خصوصیت ہے۔رپورٹ کے مطابق 41فیصد سے زائد حملے بین الاقوامی سرحد سے 50 کلومیٹر کے اندر ہوتے ہیں جبکہ 64 فیصد حملے 100 کلومیٹر کے اندر وقوع پذیر ہوتے ہیں۔سرحدی علاقے اکثر حکومتی کمزوری کی نشاندھی کرتے ہیں یعنی ایسے دور دراز علاقے جہاں ریاستی کنٹرول کمزور ہوتا ہے۔ دشوار گزار جغرافیہ اور بڑے شہروں سے فاصلے کی وجہ سے یہ علاقے دہشت گرد گروہوں کیلئےبھرتی، تربیت اور کارروائی کیلئےنسبتاً محفوظ پناہ گاہ بن جاتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق سرحدیں سیکورٹی فورسز کی کارروائیوں کو محدود کر دیتی ہیں جبکہ دہشت گرد گروہ آسانی سے ہمسایہ ممالک میں داخل ہو سکتے ہیں۔ ہمسایہ ممالک کے درمیان کمزور رابطہ کاری اور متضاد مفادات دہشت گردی کے خطرات کو بڑھاتے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جب حکومتوں کے درمیان ہم آہنگی نہ ہو یا وہ غیر ریاستی عناصر کو بطور پراکسی استعمال کریں تو سرحدی علاقے غیر منظم "گرے زون" بن جاتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ 15 برسوں میں سرحدی علاقوں میں دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے۔ جو حملے سرحد سے 100 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر ہوتے تھے وہ 2011 میں 38 فیصد تھے جو کم ہو کر 2025 میں 23 فیصد رہ گئے۔سرحدی علاقوں میں دہشت گرد گروہ عموماً حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کرتے ہیں خاص طور پر وہ حملے جو عام شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں۔سال 2025 میں سرحد سے 50 کلومیٹر کے اندر ہونے والے صرف 24 فیصد حملوں کی ذمہ داری قبول کی گئی جو 2013 کے بعد سب سے کم شرح ہے۔دنیا کے کئی مستقل دہشت گردی کے مراکز سرحدی علاقوں میں واقع ہیں جیسے کولمبیا وینزویلا سرحد،افغانستان پاکستان سرحد، وسطی ساحل کا سہ ملکی علاقہ اور جھیل چاڈ بیسن۔ان تمام علاقوں میں کچھ مشترکہ خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ کمزور سرحدی نگرانی، ناقص حکمرانی والے علاقے اور ایسی آبادی جو قومی سرحدوں کے دونوں جانب جڑی ہوئی ہوتی ہے۔