ملتان ( سٹافرپورٹر) ہائی کورٹ ملتان بینچ کے جج جسٹس احمد ندیم ارشد نے ہزاروں لوگوں کو کرپٹو کرنسی کی آڑ میں کروڑوں روپے سے محروم کرنے کے خلاف محمد فرحان کی رٹدرخواست پر سٹیٹ بینک آف پاکستان وزارت خزانہ پاکستان سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اور ایم سی سی ائی اے سے سات روز میں جواب طلب کر لیا ہے پٹیشنر کے وکیل رانا محمد اصف سعید نے فاضل عدالت کو آگاہ کیا کہ متاثرین کو اس مالیاتی سکینڈل کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے سے روکنے کے لیے کرپٹو کرنسی کی کمپنی نے وزارت خزانہ سے این او سی حاصل کر لیا ہے حالانکہ تمام ادارے اس بزنس کو غیر قانونی قرار دے چکے ہیں۔پٹیشنر کے وکیل رانا اصف سعید نے دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ بعض با اثر افراد نے سوشل میڈیا بڑے ہوٹلوں میں اور اور اشتہاری مہم کے ذریعے سادہ لوگ لوگوں کو ورغلایا پاکستانی روپے کو امریکی ڈالرز میں انویسٹ کرایا۔