• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران جنگ؛ پاکستان خود کو اہم ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے

اسلام آباد ( قاسم عباسی )پاکستان خود کو ایک اہم ثالث (میڈی ایٹر) کے طور پر پیش کر رہا ہے، جو امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے کے لیے کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ اس مقصد کے لیے وہ اپنی فوجی قیادت کے تہران کے ساتھ تعلقات اور ٹرمپ کے ساتھ  بہتر روابط کو استعمال کر رہا ہے۔ پاکستانی آرمی چیف عاصم منیر نے نے اتوار کے روز ٹرمپ سے گفتگو کی، جبکہ وزیراعظم میاں محمد شہبازشریف نے پیر کو ایرانی صدر مسعودپزشکیان سے بات چیت کی۔ پاکستانی اور ایرانی رہنماؤں کے درمیان یہ گفتگو اسی وقت ہوئی جب ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ ایران کے بجلی گھروں کو “تباہ” کرنے کی اپنی دھمکی مؤخر کر رہے ہیں، کیونکہ تہران کے ساتھ “بہت مثبت اور نتیجہ خیز” بات چیت ہوئی ہے۔یہ واضح نہیں کہ پاکستان کی ثالثی کی کوششوں اور ٹرمپ کے اس بیان کے درمیان کوئی تعلق ہے یا نہیں، تاہم اس اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ وائٹ ہاؤس نے مزید تفصیلات دینے سے گریز کیا اور کہا کہ یہ حساس سفارتی معاملات ہیں اور میڈیا کے ذریعے مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔ترکی جو جنگ سے پہلے ثالثی کی کوششوں میں شامل تھا، اب بھی ایرانی حکام اور ٹرمپ کے نمائندے اسٹیو وٹکوف سے رابطے میں ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ محمد اسحق ڈار نے اپنے ترک ہم منصب ہاکن فدان سے بھی بات کی۔ اسی طرح بدرعبدالعاطے نے ایرانی اور پاکستانی وزرائے خارجہ سمیت دیگر رہنماؤں سے رابطہ کیا۔ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی مذاکرات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ “کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے”۔ماہرین اور سفارت کاروں نے خبردار کیا ہے کہ جنگ کے چوتھے ہفتے میں داخل ہونے کے باوجود کسی بھی ثالثی کی کامیابی کے امکانات کم ہیں۔ ان کے مطابق فی الحال یہ کوششیں ابتدائی نوعیت کی پیغام رسانی تک محدود ہیں، کوئی باقاعدہ مذاکراتی عمل شروع نہیں ہوا۔

اہم خبریں سے مزید