• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا‘ اسرائیل اور ایران کے ایک دوسرے پر حملے تیز

تہران /دبئی (اے ایف پی /نیوزڈیسک ) امریکا ‘اسرائیل اور ایران کے ایک دوسرے پر حملے تیز‘ ایران میں یورینیم پروسیسنگ پلانٹ‘ بھاری پانی ری ایکٹر‘اسٹیل کے کارخانوں‘ سمندری بارودی سرنگیں اورمیزائل تیار کرنےوالی فیکٹری اورفضائی دفاعی نظام پر بمباری ‘قم میں 18افرادجاں بحق ‘120 تاریخی مقامات کو نقصان‘تہران کے اسرائیل میں مختلف مقامات ‘خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر میزائلوں اورخودکش ڈرون کے ذریعے جوابی وار‘ بحرین میں امریکی پیٹریاٹ میزائل تنصیبات ‘ کویت میں بندرگاہیں نشانہ ‘پورٹس پر ایمرجنسی نافذ ‘ ریاض پر 6بیلسٹک میزائل فائر ‘ اقوام متحدہ کی ایرانی پناہ گزینوں کیلئے 80ملین ڈالرکی اپیل‘جی سیون نے مشرق وسطیٰ میں حملے فوری بند ‘آبنائے ہرمز میں جہازرانی بحال کرنے کا مطالبہ کردیا جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکوروبیوکا کہنا ہے کہ جنگی اہداف 2ہفتوں میں مکمل ہوجائیں گے ‘ امریکا کو 15نکاتی امن منصوبے پر ایران کے جواب کا انتظارہے‘ امریکی آپریشن جاری رہے گا‘ ادھر تہران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنیوالے تین بحری جہازوں کو واپس لوٹادیاہے اورمشرق وسطیٰ میں شہریوں کو وارننگ جاری کی ہے کہ وہ امریکی اڈوں سے دور رہیںجبکہ ایرانی سرکاری میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیرخارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ایران قوم کے دفاع کے لیے اپنے عزم پر قائم ہےجبکہ سوشل میڈیاپلیٹ فارم پر انے بیان میں عباس عراقچی نےاعلان کیا ہے کہ اسٹیل کارخانوں اور جوہری مراکز پر حملوں کے بعداسرائیل کو اپنے جرائم کی بھاری قیمت چکانا پڑیگی ۔علاوہ ازیں عباس عراقچی نے اپنے روسی ہم منصب کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو میں امریکا اور اسرائیل پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جاری جنگ میں شہری آبادیوں اور عوامی تنصیبات کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اہم خبریں سے مزید