کراچی (بابر علی اعوان) محکمہ صحت سندھ نے ایک انوکھا نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے ایک ڈاکٹر کو غیر موجود اسامی پر کام کرنے کی اجازت دے دی ہے، جس سے محکمہ کی انتظامی پالیسیوں پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔ سیکریٹری صحت سندھ طاہر حسین سانگی کے 2مارچ 2026کے اعلامیے کے مطابق وزیر صحت سندھ کی منظوری سے ایڈیشنل چیف ڈینٹل سرجن (گریڈ 19) ڈاکٹر پارس اختر کو اپنی موجودہ ذمہ داریوں کے ساتھ ایڈیشنل میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (جنرل) سروسز اسپتال کراچی کا اضافی چارج سونپ دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں محکمہ صحت سندھ کا مؤقف جاننے کے لیے سیکریٹری صحت سندھ طاہر حسین سانگی، وزیر صحت کے اسٹاف افسر علی نواز چنہ اور محکمہ صحت کے ترجمان شکیل ڈوگر سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم خبر کی اشاعت تک ان کی جانب سے کوئی مؤقف موصول نہیں ہوا۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس پوسٹ کا کوئی وجود نہیں، نہ ہی یہ سندھ حکومت کے منظور شدہ اسٹاف اسٹرینتھ میں شامل ہے۔ مزید برآں، یہ تعیناتی آؤٹ آف کیڈر ہونے کے ساتھ سپریم کورٹ کے احکامات کے بھی خلاف ہے جبکہ یہ نوٹیفیکیشن محکمہ صحت کےمارچ 2021 کے اپنے سابقہ اعلامیے کے بالکل برعکس ہے۔ اس وقت محکمہ صحت نے سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں صوبے بھر میں دیے گئے اضافی چارجز اور او پی ایس فوری طور پر ختم کر دیے تھے۔