انصار عباسی
اسلام آباد :…ایک نازک سفارتی راستے کو برقرار رکھنے کی کوششوں کے دوران واشنگٹن اور تہران کے درمیان بالواسطہ روابط کو سہولت فراہم کرنے میں پاکستان اپنے خاموش کردار کے حوالے سے غیر معمولی احتیاط کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق، اسلام آباد نے دانستہ طور پر خود کو پس منظر میں رکھا ہے تاکہ اس حساس عمل میں اس کا کردار کسی خلل کا باعث نہ بنے۔ صرف چند منتخب حکام ہی اس رابطہ کاری کی اصل نوعیت سے آگاہ ہیں، جبکہ کابینہ کے بیشتر ارکان بھی زیادہ تر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں آنے والی خبروں کے ذریعے ہی معلومات حاصل کر رہے ہیں۔ صورتحال سے آگاہ حکام نے بتایا کہ پاکستانی حکام نے خاموشی کی ایک سخت پالیسی اختیار کر رکھی ہے، اور غیر رسمی یا آف دی ریکارڈ گفتگو سے بھی اجتناب کیا جا رہا ہے تاکہ جاری کوششوں کی تفصیلات منظرِ عام پر آنے کا کوئی خطرہ پیدا نہ ہو۔ ان کے مطابق مقصد یہ ہے کہ کسی بھی قبل از وقت انکشاف سے اس نازک عمل کو نقصان نہ پہنچے۔ ایک ذریعے کا کہنا تھا کہ تمام متعلقہ افراد کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مکمل خاموشی اختیار کریں، پاکستان کا یہ طرزِ عمل دو حریف ممالک کے درمیان ثالثی کے حساس کردار میں درپیش بڑے خطرات کے ادراک کی عکاسی کرتا ہے۔ اسی دانستہ احتیاط کے نتیجے میں اسلام آباد کے کردار سے متعلق سامنے آنے والی بیشتر معلومات پاکستان کے اندر سے نہیں بلکہ واشنگٹن اور تہران سے سامنے آئی ہیں۔ حتیٰ کہ جب بین الاقوامی میڈیا نے اس عمل کے حساس پہلوؤں میں پاکستان کے کردار سے متعلق خبریں نشر کیں، تب بھی اسلام آباد نے کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا، خواہ وہ آن دی ریکارڈ ہو یا آف دی ریکارڈ۔ ان میں وہ خبریں بھی شامل ہیں جن میں یہ تاثر دیا گیا کہ پاکستان نے واشنگٹن کو مکالمے کے عمل سے وابستہ اہم ایرانی شخصیات کو نشانہ بنانے سے باز رکھنے میں کردار ادا کیا۔ حکام نے ایسے دعووں پر تبصرے سے انکار کیا، جو اس وسیع تر پالیسیِ عدم انکشاف کی عکاسی کرتا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق، اسلام آباد میں اس بات کا واضح ادراک پایا جاتا ہے کہ اس مرحلے پر کسی بھی قسم کی معلومات کا افشاء نہ صرف اس عمل کو متاثر کر سکتا ہے بلکہ ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر پاکستان کی ساکھ اور ذمہ داری کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ان کے مطابق، دونوں فریقین نے پاکستان کے کردار پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، جسے واشنگٹن اور تہران کی جانب سے عوامی طور پر تسلیم بھی کیا گیا ہے۔ تاہم، اسلام آباد نے خود کو صرف انہی باتوں کی تصدیق تک محدود رکھا ہے جو پہلے ہی منظرِ عام پر آ چکی ہیں۔ حکام کے مطابق، اس وقت تمام تر توجہ اس امر پر مرکوز ہے کہ پسِ پردہ سفارتی رابطہ کاری میڈیا کی چکاچوند اور سیاسی شور سے دور رہتے ہوئے کامیاب ہو سکے۔