• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جنگ سے نکلیں یا فوجی کارروائیوں میں اضافہ، ٹرمپ کے سامنے کڑا انتخاب

واشنگٹن (جنگ نیوز) — ایران کے خلاف ایک ماہ سے جاری جنگ کے بعد امریکی صدر ٹرمپ کو اب نہایت کڑے اور فیصلہ کن انتخاب کا سامنا ہے: یا تو ایک ممکنہ طور پر کمزور معاہدہ کرکے جنگ سے نکل جائیں، یا عسکری کارروائی میں اضافہ کریں اور ایک طویل و مہنگی جنگ کا خطرہ مول لیں جو ان کی صدارت کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔مغربی خبر رساں ادارے رائٹرز کےمطابق عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور عوامی مقبولیت میں کمی کے ساتھ ٹرمپ ایک بڑھتے ہوئے بحران سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایران کی جوابی کارروائیوں نے خلیجی تیل و گیس کی ترسیل کو متاثر کیا ہے اور اہم آبی گزرگاہ Strait of Hormuz تقریباً بند ہے، جس سے عالمی معیشت کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا ٹرمپ اس جنگ کو سمیٹنے کی کوشش کریں گے یا اسے مزید وسعت دیں گے۔ ناقدین اسے ایک “اختیاری جنگ” قرار دے رہے ہیں جس نے عالمی توانائی کی فراہمی کو شدید متاثر کیا ہے۔ٹرمپ انتظامیہ بیک چینل سفارت کاری کے ذریعے ایران کے ساتھ مذاکرات کی کوشش کر رہی ہے، جس میں پاکستان کے ذریعے 15 نکاتی امن منصوبہ بھی بھیجا گیا۔ تاہم ابھی تک اس بات کے واضح امکانات نہیں کہ کوئی بامعنی مذاکرات کامیاب ہو سکیں گے۔سابق امریکی انٹیلی جنس اہلکار جوناتھن پانیکوف کے مطابق: “صدر ٹرمپ کے پاس جنگ ختم کرنے کے لیے اچھے آپشنز موجود نہیں، اور مسئلہ یہ ہے کہ مطلوبہ نتیجہ کیا ہونا چاہیے، اس پر بھی وضاحت نہیں ہے۔”وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ یہ مہم اس وقت ختم ہوگی جب صدر اپنے اہداف کے حصول کا اعلان کریں گے۔امریکا بظاہر مزید فوجی طاقت تعینات کر رہا ہے اور ایران کو خبردار کر رہا ہے کہ اگر اس نے مطالبات نہ مانے تو حملے مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں، جن میں زمینی فوج بھی شامل ہو سکتی ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق اس سے جنگ طویل ہو سکتی ہے اور امریکی عوام میں ناراضی بڑھ سکتی ہے۔ایک ممکنہ حکمت عملی یہ بھی بتائی جا رہی ہے کہ امریکا ایک آخری بڑا فضائی حملہ (جسے “آپریشن ایپک فیوری” کہا جا رہا ہے) کرے، ایران کی عسکری صلاحیت کو مزید نقصان پہنچائے اور پھر فتح کا اعلان کرکے جنگ ختم کر دے۔ لیکن جب تک آبنائے ہرمز مکمل طور پر نہ کھلے، ایسی کامیابی مشکوک سمجھی جائے گی۔ٹرمپ کی سب سے بڑی غلطی ایران کے ردعمل کا اندازہ نہ لگا پانا قرار دی جا رہی ہے۔ ایران نے میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے اسرائیل اور خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا ہے اور دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے تیل کی ترسیل کو متاثر کیا ہے۔واشنگٹن کے ایک تھنک ٹینک کے ماہر کے مطابق: “ایران کا اندازہ ہے کہ وہ اپنے مخالفین کے مقابلے میں زیادہ دیر تک دباؤ برداشت کر سکتا ہے، اور ممکن ہے وہ درست ہو۔”امریکا میں اس جنگ کے خلاف عوامی حمایت کمزور ہے۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ٹرمپ کی مقبولیت 36 فیصد تک گر چکی ہے، جو ان کی موجودہ مدت کی کم ترین سطح ہے۔ آنے والے وسط مدتی انتخابات کے پیش نظر ریپبلکن رہنماؤں میں بھی تشویش بڑھ رہی ہے۔کانگریس کے بعض ارکان نے انتظامیہ پر تنقید کی ہے کہ انہیں جنگ کی نوعیت اور اہداف کے بارے میں مکمل آگاہی نہیں دی جا رہی۔ٹرمپ کا 15 نکاتی منصوبہ ایران کے لیے قابل قبول نہیں کیونکہ اس میں جوہری پروگرام ختم کرنے، میزائل صلاحیت محدود کرنے، علاقائی گروپوں سے تعلق ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کا کنٹرول چھوڑنے جیسے مطالبات شامل ہیں۔ایران نے اس کے جواب میں اپنی 5 سخت شرائط پیش کردی ہیں۔مزید پیچیدگی اس وجہ سے بھی پیدا ہوئی ہے کہ امریکی و اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والے ایرانی رہنماؤں کی جگہ زیادہ سخت گیر افراد آ چکے ہیں، جو ٹرمپ پر اعتماد نہیں کرتے۔اسرائیل کو خدشہ ہے کہ ٹرمپ کسی ایسے معاہدے پر راضی نہ ہو جائیں جو اس کے لیے ایران کے خلاف کارروائی محدود کر دے۔

اہم خبریں سے مزید