پروفیسر ڈاکٹر محمّد اطہر خان
ہر سال7 اپریل کو دنیا’’عالمی یومِ صحت‘‘ مناتی ہے، لیکن بعض اوقات یہ دن صرف ایک رسمی یاد دہانی نہیں ہوتا بلکہ انسانیت کے سامنے موجود کسی بڑے سوال کو پوری شدّت کے ساتھ سامنے لاتا ہے۔ عالمی یومِ صحت2026ء بھی ایک ایسا ہی موقع ہے کہ اِس سال جو موضوع منتخب کیا گیا، وہ نہایت بامعنی اور وقت کی ضرورت ہے۔’’Together for health. Stand with science‘‘ یعنی’’صحت کے لیےمل کر آگے بڑھیں، سائنس کے ساتھ کھڑے ہوں۔‘‘
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق، یہ صرف ایک دن کا پیغام نہیں، بلکہ سال بَھر جاری رہنے والی عالمی مہم کا آغاز ہے، جس کا مقصد یہ اجاگر کرنا ہے کہ انسانوں، جانوروں، پودوں اور پوری زمین کی صحت کے تحفّظ کے لیے سائنسی تعاون اور اجتماعی ذمّےداری کس قدر اہم ہے۔
اِمسال مہم میں’’وَن ہیلتھ‘‘ کے تصوّر کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے اور ساتھ، دو بڑی عالمی تقریبات بھی منسلک کی گئی ہیں۔ انٹرنیشنل وَن ہیلتھ سمٹ اور ڈبلیو ایچ اوکولیبریٹنگ سینٹرز کا عالمی فورم۔80 سے زیادہ ممالک کے تقریباً 800 سائنسی ادارے اِس اشتراک کا حصّہ بن رہے ہیں، جو اِس امر کاثبوت ہےکہ آج صحت کا تحفّظ انفرادی نہیں، اجتماعی معاملہ ہے۔
’’سائنس کے ساتھ کھڑے ہوں‘‘سے مُراد: یہ محض خُوب صُورت نعرہ نہیں، اِس کا حقیقی مطلب ہے کہ ہم اپنی صحت سے متعلق فیصلے ثبوت، تحقیق، حقائق اور مستند معلومات کی بنیاد پر کریں، نہ کہ سُنی سُنائی باتوں، غیرتربیت یافتہ افراد کے مشوروں یا سوشل میڈیا کے بے بنیاد دعووں پر۔
آج کے دَور میں یہ فرق سمجھنا پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہوچُکا ہے کہ وبا، بیماری، ویکسین، علاج، غذا اور ادویہ سے متعلق غلط معلومات بہت تیزی سے پھیلتی ہیں۔ لوگ تحقیق کی بجائے جذباتی، غیرمصدقہ ویڈیوز پر یقین کرلیتے ہیں اور یہیں سائنس اور مفروضے، دلیل اور قیاس، تحقیق و گمان کے درمیان فرق عوامی صحت کا اہم مسئلہ بن جاتا ہے۔ اِسی لیے زور دیا گیا ہے کہ عوام، حکومتیں، ماہرین اور ادارے، سب شواہد پر مبنی رہنمائی اپنائیں اور سائنس پر مبنی حل کی حمایت کریں۔
سائنس صرف تجربہ گاہ تک محدود نہیں: عام طور پر سائنس کے نام سے تجربہ گاہیں، مشینز پیچیدہ تحقیق ذہن میں آتی ہے، حالاں کہ سائنس روزمرّہ زندگی میں ہر جگہ موجود ہے۔ جب بچّہ ویکسین لگواتا ہے، حاملہ عورت محفوظ زچگی کی سہولت حاصل کرتی ہے، مریض کو بیماری کی درست دوا دی جاتی ہے، صاف پانی اور صفائی بیماریوں سے بچاتے ہیں یا کسی وبا کا پھیلاؤ بروقت روک لیا جاتا ہے، تو دراصل وہاں ساراعمل دخل سائنس ہی کا ہوتا ہے۔
یعنی سائنس صرف سائنس دانوں کے لیے نہیں، یہ ہرگھر، خاندان اور معاشرے کی ضرورت ہے۔ صحتِ عامّہ کی بہتری اُسی وقت ممکن ہے، جب تحقیق کو پالیسی میں اور پالیسی کو عملی زندگی میں شامل کیا جائے۔
وَن ہیلتھ: صحت کا وسیع تر تصوّر: عالمی یومِ صحت2026 ء کی مہم کا ایک بنیادی ستون وَن ہیلتھ ہے۔ اِس تصوّر کے مطابق انسانی صحت کو جانوروں، پودوں اور ماحول کے مجموعی نظام سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔ اگر ماحول آلودہ ہو، تو اُس کے اثرات پانی، خوراک، ہوا اور انسانی صحت پرمرتّب ہوتے ہیں۔ جانوروں میں بیماریاں پھیلیں، تو انسانوں تک منتقل ہو سکتی ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی شدّت اختیار کرے، تو ہیٹ اسٹروک، غذائی قلّت، سانس کے امراض اور مچھر سے پھیلنے والی بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ جیسا کہ نکاسیٔ آب کا ناقص نظام ڈینگی کے پھیلاؤ کا سبب بنتا ہے۔ اینٹی بایوٹک ادویہ کا غلط استعمال جراثیم میں مزاحمت پیدا کر سکتا ہے، جس کے بعد عام انفیکشن کا علاج بھی مشکل ہوجاتا ہے۔
غیرمحفوظ خوراک، آلودہ پانی پورے خاندان کو بیمار کرسکتا ہے۔ اِس لیے صحت اب صرف اسپتال، ڈاکٹر اور دوا کا نہیں، یہ ماحول، صفائی، غذا، جانوروں کی صحت اور اجتماعی طرزِ زندگی سے وابستہ معاملہ ہے۔
پیغام ہمارے لیے کیوں اہم ہے: پاکستان جیسے مُلک میں اِس سال کے’’عالمی یومِ صحت‘‘ کا پیغام غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ہمارے یہاں ایک طرف محنتی ڈاکٹر اور شعبۂ صحت کے کارکن موجود ہیں، تو دوسری طرف صحت سے متعلق غلط فہمیاں، سیلف میڈی کیشن، غیر سائنسی مشورے، نیم حکیمانہ رویّے، ویکسین سے ہچکچاہٹ اور افواہوں پر مبنی فیصلے بھی عام ہیں۔
اکثر اوقات بیماری کی صُورت میں پہلا قدم مستند طبّی مشورہ حاصل کرنا نہیں، کسی واقف کار، غیرتربیت یافتہ شخص یا سوشل میڈیا سے ملنے والی غیرمستند معلومات پر عمل ہوتا ہے، جس کا نقصان صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورا خاندان اور بعض اوقات پوری کمیونٹی بھگتتی ہے۔
اِسی لیے’’سائنس کے ساتھ کھڑے ہوں‘‘ کا مطلب پاکستان کے تناظر میں یہ ہے کہ ہم ویکسین سے متعلق غلط فہمیوں کی بجائے ماہرین کی بات سُنیں، خُود تشخیصی، سیلف میڈی کیشن کی بجائے تربیت یافتہ ڈاکٹرز سے رجوع کریں، غیرضروری اینٹی بایوٹک کے استعمال سے بچیں اور ہمیشہ مستند معلومات کو ترجیح دیں۔
اعتماد کی بحالی بھی ضروری ہے: عوامی صحت کا نظام صرف دوا اور اسپتال سے مضبوط نہیں ہوتا، اعتماد بھی ناگزیر ہے۔ اگر لوگوں کو ڈاکٹر، ویکسین، صحت کے اداروں یا سائنسی رہنمائی پر اعتماد نہ ہو، تو بہترین پالیسیز بھی کم زور پڑجاتی ہیں۔
اِسی لیے اِس سال کی مہم میں سائنس پر اعتماد کی بحالی کو اہم ہدف قرار دیا گیا ہے۔ اعتماد تب پیدا ہوتا ہے، جب ادارے شفّاف ہوں، ماہرینِ صحت واضح، سادہ زبان میں بات کریں، عوام کو تضاد کی بجائے رہنمائی ملے اور جب لوگ اپنی زندگی میں سائنسی عمل کے مثبت نتائج محسوس کریں۔
ایک ماں کا ویکسین پر اعتماد اُس وقت مضبوط ہوگا، جب وہ اپنے بچّے کو بیماری سے محفوظ دیکھےگی۔ کوئی مریض، علاج پر اُس وقت یقین کرےگا، جب ڈاکٹر اُسے مرض اور دوا کی سمجھ بوجھ کے ساتھ وضاحت دے گا۔ معاشرہ نظامِ صحت پر تب اعتماد کرے گا، جب اُسے صاف پانی اور محفوظ خوراک سے بیماریوں پر کنٹرول نظر آئے گا۔
عام شہری کیا کرسکتے ہیں؟: یہ مہم صرف حکومتوں، سائنس دانوں یا عالمی اداروں کے لیے نہیں، عام لوگوں کاکردار بھی نہایت اہم ہے۔ ہرشہری چند سادہ، مؤثر اقدامات کے ذریعے سائنس کے ساتھ کھڑا ہوسکتا ہے۔ مثال کے طور پر، صحت سے متعلق کسی بھی خبر یا پیغام کو آگے بھیجنے سے پہلے اُس کی تصدیق کی جائے۔ اس ضمن میں مستند اداروں اور اہلِ علم کی رہنمائی کوترجیح دی جائے۔
صحت کے کارکنوں اور محقّقین کے کام کا احترام کیا جائے۔ اپنے بچّوں کو سوال کرنا، دلیل مانگنا اور حقیقت تلاش کرنا سِکھایا جائے۔ عالمی ادارۂ صحت نے لوگوں کو یہ بھی دعوت دی ہے کہ وہ اپنی زندگی میں سائنس کےمثبت اثرات دوسروں کے ساتھ بانٹیں اور’’Stand With Science‘‘ کے ذریعے عالمی پیغام آگے پہنچائیں۔
مستقبل کا راستہ: ثبوت، تعاون اور ذمّےداری: آج دنیا کو خوف نہیں، آگہی پر مبنی بیانیے کی ضرورت ہے۔ تصادم نہیں، تعاون پر مبنی رویّے درکار ہیں اور قیاس نہیں، ثبوت اور تحقیق کی بنیاد پرفیصلوں کی ضرورت ہے اور اگر ہم نے سائنس اور انسانی صحت کے درمیان اِس گہرے تعلق کو سمجھنے میں غفلت برتی، تو آئندہ برسوں میں وباؤں، ماحولیاتی خطرات، مزاحمتی جراثیم، غذائی عدم تحفّظ اور صحتی بحرانوں کا بوجھ مزید بڑھ سکتا ہے۔
صحت کا مستقبل صرف اسپتالوں میں نہیں، اجتماعی فیصلوں، معلومات کے انتخاب، پالیسی سازی، اورسائنسی سوچ میں پوشیدہ ہے اور سائنس صرف اُسی وقت کارآمد ہے، جب ہم خود اُس کے ساتھ کھڑے ہوں۔ سو، ’’ثبوت، حقائق پر یقین رکھیں، انسانوں، جانوروں اور زمین کی بہتر صحت کے لیے سائنس کے ساتھ کھڑے ہوں۔‘‘
(مضمون نگار، ماہرِ پبلک ہیلتھ اور لیاقت کالج آف میڈیسن اینڈ ڈینٹسٹری، کراچی سے وابستہ ہیں)