• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بارود بھرے بانسوں سے جدید ترین میزائلز تک کا سفر

ذرا تصوّر کیجیے۔ رات کی تاریکی میں 30میٹر لمبا، چیختا چنگھاڑتا ایک عفریت، اپنے پیچھے آگ کی خیرہ کُن لکیر چھوڑتا، اپنی منزل کی طرف گام زن ہے۔ آخرکار1000 کلومیٹر کا سفر طے کرتا ہوا یہ ہتھیار زمین پر اپنے ہدف کی طرف بڑھتا ہے اور پھر ایک زور دار دھماکے کے ساتھ ہر طرف تباہی پھیل جاتی ہے۔ 

اگرچہ ضروری نہیں کہ یہ ہر بار اپنے ہدف پر لگے، لیکن اکثر و بیش تر یہ اپنے ہدف ہی کو نشانہ بناتا ہے یا پھر تھوڑے سے فرق سے اِدھر اُدھر گرتا ہے، لیکن یہ جہاں بھی گرتا ہے، تباہی کی ایک داستان چھوڑ جاتا ہے۔ تباہی وبربادی پھیلانے والے اِس ہتھیار کا عام فہم نام،’’میزائل‘‘ ہے، جو حالیہ ایران، امریکا، اسرائیل جنگ میں ایک فیصلہ کُن ہتھیار کے طور پر منظرِ عام پر آیا۔

اگرچہ گزشتہ کئی دہائیوں سے یہ ہتھیار، مختلف خطّوں میں ہونے والی جنگوں میں استعمال کیا جاتا رہا، لیکن حالیہ ایران جنگ میں تو اِسے مرکزی حیثیت حاصل ہوگئی۔ دنیا بھر کا الیکٹرانک میڈیا ہو یا سوشل میڈیا پلیٹ فارم، ہر خبرنامہ میزائلوں کے تذکرے کے بغیر نامکمل تصّور کیا گیا۔ اِس امر میں کوئی شک نہیں کہ طیاروں اور ڈرونز سے حملوں کی بھی اپنی اہمیت ہے، لیکن میزائل ٹیکنالوجی نے جنگ کی تباہ کاریوں کے ضمن میں نئے دروازے کھول دیئے ہیں۔

واضح رہے، یہ جو آج فضا میں چیختے، چنگھاڑتے، اُڑتے میزائل نظر آتے ہیں، یہ شروع ہی سے ایسے نہیں تھے، اِن کی اِس جدّت کاری کے پیچھے ایک طویل داستان کارفرما ہے۔ درحقیقت، میزائلز کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ ان کی اصل ابتدا اُس وقت ہوئی، جب انسان نے پہلی بار بارود اور راکٹ جیسی ٹیکنالوجی استعمال کرنے کا آغاز کیا۔ مؤرخین کے مطابق، میزائل یا راکٹ کا استعمال(اپنی ابتدائی شکل میں) چین میں13ویں صدی کے دَوران شروع ہوا۔ بارود کی دریافت کے بعد چینی سائنس دانوں نے اِسے راکٹ کی شکل میں استعمال کیا۔

دوسرے الفاظ میں13 ویں صدی میں راکٹ یا میزائل پہلی مرتبہ جنگ کا حصّہ بنے۔ یہ راکٹ کیا تھے؟ یوں سمجھ لیجیے، لکڑی کے بڑے بڑے بانس تھے، جن کے خول میں بارود بَھر دیا جاتا۔ جب اُنہیں عقب سے آگ لگائی جاتی، تو یہ فضا میں بلند ہو کر دشمن کی صفوں میں گر کر تباہی مچاتے اور جب بارود پَھٹتا، تو ہر طرف آگ پھیل جاتی۔ چینیوں کی یہ ٹیکنالوجی بعد میں منگولوں، پھر مشرقِ وسطیٰ اور یورپ تک پہنچی۔ اگرچہ بانسوں کے اِن راکٹس کی سمت کا تعیّن ایک مشکل کام تھا، لیکن پھر بھی یہ جنگ کا ایک اہم ہتھیار بن گئے تھے۔

راکٹس کی یہ ابتدائی شکل برّ ِعظیم میں18ویں صدی میں پہنچی، جہاں ٹیپو سلطان نے سب سے پہلے اِن راکٹس کا انگریزوں کے خلاف جنگ میں استعمال کیا۔ اُنہوں نے لوہے کے خول والے راکٹ بنائے، جو زیادہ تباہی مچاتے تھے۔ یہ مروّجہ راکٹس سے زیادہ طاقت وَر تھے اور اُن کی مار دُور تک تھی۔ اگرچہ ٹیپو سلطان کو اپنے فوجی افسران کی غدّاری کے باعث شکست ہوگئی، لیکن انگریز حُکم ران ان راکٹس سے بہت متاثر ہوئے۔

اُنہوں نے بھی ایسے ہی راکٹ تیار کیے، جن کا نام’’کانگریو راکٹ‘‘ تھا۔ ان راکٹس نے بتدریج ارتقا کے بعد میزائلز کی شکل اختیار کرلی۔ پھر جب 19 ویں اور20 ویں صدی میں سائنس اور ٹیکنالوجی نے ترقّی کی منازل طے کیں، تو راکٹ اور میزائل بھی اپنی ہیئت کے اعتبار سے ترقّی کے زینے طے کرنے لگے۔ بیسویں صدی میں روسی سائنس دانوں نے راکٹ سازی کے میدان میں مزید ترقّی کی اور نظریہ پیش کیا کہ راکٹ، خلا تک سفر کرسکتے ہیں۔

اُن کی تحقیق نے خلائی اور جدید میزائل ٹیکنالوجی کی بنیاد رکھی۔ دوسری جنگِ عظیم میں جرمن سائنس دانوں نے V-2 ایجاد کیا، جو دنیا کا پہلا طویل فاصلے تک مار کرنے والا بلیسٹک میزائل تھا۔ 

یہ میزائل، لندن اور دیگر شہروں پر فضائی حملوں کے دَوران استعمال کیا گیا۔ ان راکٹس کی ایجاد میں جرمن سائنس دان،Wernher von Braun کا اہم کردار تھا۔ جنگ کے بعد جرمن سائنس دان امریکا پہنچے، جہاں اُنہوں نے خلائی پروگرام اور جدید میزائلز کی تیاری میں نمایاں کردار ادا کیا۔

میزائلز کی دوڑ

دوسری جنگِ عظیم کے بعد میزائلز کی تاریخ کا ایک نیا دَور شروع ہوا، جب امریکا اور سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ شروع ہوئی۔ یہی وہ دَور تھا، جب راکٹس سے ہٹ کر بین البراعظمی بلیسٹک میزائل( ICBM) تیار کیے گئے، جو ہزاروں میل دُور تک ایٹمی ہتھیار لے جاسکتے تھے۔ اِسی دَوران زمین سے فضا میں مار کرنے والے اور فضا سے زمین پر حملہ کرنے والے میزائل تیار کیے گئے۔ ان میں ایسا خودکار نظام نصب کیا گیا کہ یہ سیکڑوں میل دُور اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کے حامل بن گئے۔

ہر آنے والے دن کے ساتھ میزائلز کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا رہا۔ یہ میزائل کمپیوٹرائزڈ رہنمائی، سیٹلائٹ نیوی گیشن اور جدید سینسر نظام سے بھی لیس ہو گئے۔ یوں ان کے ہدف تک پہنچنے کی شرح میں اضافہ ہوگیا۔ اس کا عملی مظاہرہ حالیہ ایران، اسرائیل، امریکا جنگ کے دَوران دیکھنے میں آیا، جب اسرائیلی میزائلز نے ایران کے اہم رہنماؤں کو نشانہ بنایا۔ اِسی طرح ایرانی میزائلز نے بھی اسرائیل اور مشرقِ وسطیٰ میں ٹھیک ٹھیک نشانے لگائے۔

اب ہر ترقّی یافتہ مُلک میں میزائلز کی تیاری کا عمل تیز ہوگیا ہے، جس کی وجہ سے ان کی بے شمار اقسام، جنگی طاقت کی علامت بن گئی ہیں۔ مثلاً بلیسٹک میزائل، کروز میزائل، اینٹی ایئر کرافٹ میزائل اور اینٹی سب میرین میزائل وغیرہ۔ اِس وقت جو ممالک میزائل سازی کی دوڑ میں شامل ہیں، اُن میں امریکا، روس، چین، اسرائیل، ایران، شمالی کوریا، جنوبی کوریا، بھارت، پاکستان، ایران اور دیگر شامل ہیں۔

حقیقت تو یہ ہے کہ دنیا کا شاید ہی کوئی مُلک ایسا ہو گا، جس نے میزائلز کو اپنی جنگی یا دفاعی حکمتِ عملی کا حصّہ نہ بنایا ہو۔ پاکستان نے جو میزائل تیار کیے ہیں، اُن میں شاہین، غوری، بابر، ابابیل، فاتح اور ابدالی وغیرہ شامل ہیں۔ واضح رہے، پاکستان کے بلیسٹک اور کروز میزائل بہت ہی ایڈوانس ٹیکنالوجی کے حامل ہیں۔

عالمی میزائل انڈسٹری

اِس وقت دنیا بھر میں جنگی سازوسامان کی تیاری پر کھربوں ڈالرز صَرف ہورہے ہیں اور ہر مُلک اپنے دفاع کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کے لیے خود کو جدید ترین جنگی آلات سے لیس کررہا ہے، جس میں میزائل انڈسٹری کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ ترقّی یافتہ ممالک میں صرف میزائل سازی کی انڈسٹری کا حجم65ارب ڈالرز سے زائد ہے، جو فوجی مبصّرین کے مطابق آئندہ چند سالوں میں ایک کھرب ڈالرز تک پہنچ جائے گا۔ فی الوقت اِس انڈسٹری کے بڑے نام امریکا، روس اور چین ہیں۔

امریکا کی لاک ہیڈ مارٹن اور چین کی ایئرو اسپیس کمپنیز اِس دوڑ میں نمایاں ہیں۔ نیز، بھارت، اسرائیل اور ایران بھی اِس انڈسٹری کے بڑے کھلاڑیوں کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ دنیا میں جدید ترین میزائل تیار کرنے کی دوڑ جاری ہے اور اب MACH-5سے تیز رفتار میزائل بنائے جارہے ہیں۔ چین نے کم لاگت والے میزائل بنانے شروع کیے ہیں، جب کہ اِس ضمن میں آرٹیفشل انٹیلی جینس سے بھی کام لیا جارہا ہے۔

اب ایسے میزائلز کی تیاری پر زور دیا جارہا ہے، جو100 فی صد ٹھیک نشانے پر لگیں اور اجتماعی نقصان کا باعث نہ بنیں۔ روس ایڈوانس ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں مشہور ہے اور اس کاRS-28 اسمارٹ میزائل دنیا میں بہت شہرت رکھتا ہے، جب کہ امریکا کے پیٹریاٹ، ٹام ہاک کروز، منٹ مین بہت مشہور ہیں۔ چین کے ڈی ایف-21اور ڈی ایف-26، کیریئر کلر کے نام سے مشہور ہیں۔ 

بھارت، اسرائیل اور ایران بلیسٹک میزائل بنا رہے ہیں۔ اِن دنوں میزائل انڈسٹری میں جن ٹاپ10میزائلز کا نام لیا جاتا ہے، اُن میں روس کے RS-28اسمارٹ، چین کےDF-41، امریکا کےLGM-25اور TRIDENT-D5، (مؤخرالذکر امریکا اور برطانیہ نے مل کر بنائے ہیں)، روس کے RS-24، فرانس کے M-51، روس ہی کے R-29اور امریکا کے LGM منٹ مین شامل ہیں۔ روس سے متعلق قیاس کیا جاتا ہے کہ اس کے پاس میزائل سازی کی جدید ترین اور پاور فُل ٹیکنالوجی موجود ہے۔

ہائپرسونک سسٹم کے حوالے سے امریکی میزائل ایٹمی ہتھیار لے جانے کی بہترین صلاحیتوں کے حامل سمجھے جاتے ہیں۔ امریکی اور روسی میزائل، آواز سے کئی گُنا تیز رفتار ہیں، جو دفاعی نظام کو دھوکا دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اب ایسے میزائل بھی تیار کیے جارہے ہیں، جو بیک وقت15ایٹمی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ15 ہزار کلومیٹر دُور تک مار کرسکتے ہیں۔

امریکا کےTRIDENT-D5 بلیسٹک میزائل بھی بہت شہرت رکھتے ہیں، جنہیں سمندر سے داغا جاسکتا ہے۔ روس کے اسمارٹ اور چین کےDF-41بیک وقت مختلف اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ حالیہ جنگ میں ایران کی میزائل سازی کی صلاحیت نے دنیا کو حیران کردیا۔ ایران کے پاس 4منزلہ عمارت جتنے بڑے میزائل ہیں، جو2 ہزار ٹن وزنی بارود لے جاسکتے ہیں۔

پاکستان بھی میزائل سازی میں اہم حیثیت اختیار کر چُکا ہے، جس کے پاس شارٹ رینج سے لے کر میڈیم رینج بلیسٹک میزائل موجود ہیں۔ شاہین-3، غوری، شاہین 1Aاور بابر کروز میزائل اپنے اہداف کو درست طور پر نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اِسی طرح رعد، غزنوی، ہاتف-3، ابدالی اور ابابیل میزائل بھی ٹھکانوں کو درست نشانہ بناتے ہیں۔

عہدِ حاضر میں ہونے والی جنگوں میں اگرچہ بم بار طیاروں اور ڈرونز کا کردار نہایت اہم رہا، تاہم میزائل، ایک ایسے جنگی ہتھیار کے طور پر سامنے آیا ہے، جس میں جنگ کا پانسا پلٹنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اگر35 ہزار ڈالرز سے 40 لاکھ ڈالرز تک کا ایک میزائل13ارب ڈالرز کے ایئر کرافٹ کیریئر کو ڈبو سکتا ہے، تو اِسی سے کسی جنگ میں اس کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ 

میزائلز کی ترقّی اور ارتقاء میں مغربی سائنس دان جن دو اہم شخصیات کا کردار تسلیم کرتے ہیں، اُن میں جرمنی کے VON BRAUNاور ریاست میسور کے حُکم ران ٹیپو سلطان کے نام شامل ہیں۔ 

وون بریون نے دوسری جنگِ عظیم میںV-2 راکٹ ایجاد کیا تھا، جو پہلا طویل فاصلے تک مار کرنے والا گائیڈڈ بلیسٹک میزائیل تھا، جب کہ ٹیپو سلطان نے راکٹ سازی میں دھاتی سلنڈر استعمال کیا، جس سے راکٹ کی اُڑان اور کارکردگی میں اضافہ ہوا۔ اور یہ راکٹ ہی تھا، جس نے جدید میزائل کی تیاری میں بنیادی اور اہم ترین کردار ادا کیا، جب کہ اِس سے قبل رابرٹ گوڈارڈ نے 1926ء میں مائع ایندھن سے چلنے والا پہلا راکٹ تیار کیا تھا۔

سنڈے میگزین سے مزید