• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

محکمہ قانون کی عدم دلچسپی و غیرسنجیدگی، 10 سال بعد بھی حساس مقدمات کے گواہان کے تحفظ کیلئے مشاورت مکمل نہ ہوسکی

کراچی (محمد منصف) محکمہ قانون سندھ کی عدم دلچسپی اور غیر سنجیدگی کے باعث حساس مقدمات میں نامزد گواہان کے تحفظ کے لئے بنائے گئے رولز پر 10 سال بعد بھی مشاورت مکمل نہ ہو سکی ، سندھ ہائی کورٹ کے روبرو مزید مہلت مانگ لی۔ تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں انتہائی حساس اور حساس مقدمات میں نامزد گواہوں کے تحفظ کے لئے وٹنس پروٹیکشن ایکٹ پر عمل درآمد نہ کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ اس موقع پر محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے فوکل پرسن نے رپورٹ عدالت عالیہ میں پیش کی جس میں بتایا گیا کہ وٹںس پروٹیکشن ایڈوائزری بورڈ 26 نومبر 2013 کو قائم کیا گیا اور وٹنس پروٹیکشن یونٹ بھی 19 فروری 2016 کو بنایا دیا گیا ہے جبکہ محکمہ داخلہ نے سندھ وٹنس پروٹیکشن کمیٹی 2017 میں بنائی۔ فوکل پرسن نے پیش کردی رپورٹ میں بتایا کہ سندھ پروٹیکشن رولز 2016محکمہ قانون کو ارسال کئے تھے ان مجوزہ اصولوں کا جائزہ لینے کیلئے کہا گیا ہے اسٹیک ہولڈرز کی میٹنگ 14 جنوری 2026 کو منقعد ہوئی، ایکٹ پر مشاورت کیلئے اسٹیک ہولڈرز کی دوسرا اجلاس آئندہ ماہ یعنی اپریل میں رکھا گیا ہے تاکہ وٹنس پروٹیکشن رولز 2026 کو حتمی شکل دی جا سکے لہذا کارروائی مکمل کرنے کے لئے مزید وقت درکار ہے۔ جسٹس یوسف علی سعید پر مشتمل دو رکنی بینچ نے رپورٹ کی نقول درخواست گزار کو فراہم کرنے کی ہدایت کی اور سماعت ملتوی کر دی۔

ملک بھر سے سے مزید