• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جنگ بندی کیلئے ضمانتیں درکار ہیں، ایرانی صدر، جلد نکل جائیں گے، آبنائے ہرمز خود کھل جائے گی، ٹرمپ

واشنگٹن،کراچی (اے ایف پی، نیوز ڈیسک) ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ان کا ملک جنگ بندی کا خواہاں ہے تاہم انہیں دوبارہ جارحیت نہ کرنے کی ضمانتیں درکار ہیں ، یورپی کونسل کے صدر کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو میں تہران کے اہم مطالبے کو دہراتے ہوئے پزشکیان نے کہاہم اس تنازع کو ختم کرنے کا عزم رکھتے ہیں، بشرطیکہ بنیادی شرائط پوری کی جائیں بالخصوص جارحیت دوبارہ روکنے کے لئے مطلوبہ ضمانتیں فراہم کی جائیں،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ جنگ سے جلد نکل جائیں گے جس کے بعد آبنائے ہرمز خود کھل جائے گی ،امریکی ٹی وی سے گفتگو میں ٹرمپ نے کہا کہ جنگ بہت جلد ختم ہونے والی ہے ، قبل ازیں ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھلوانے میں مدد نہ کرنے پر برطانیہ اور فرانس سے ناراضی کا اظہار کیا اور کہا کہ برطانیہ جیسے ممالک جو آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے جیٹ فیول حاصل نہیں کر پا رہے، انہیں چاہیے کہ خود میں ہمت پیدا کریں، آبنائے ہرمز جائیں اور تیل لے آئیں۔امریکا سے تیل خرید لیں کیونکہ ہمارے پاس بہت زیادہ ہے، ملکوں کو ’سیکھنا پڑے گا کہ اپنی خاطر لڑائی کیسے لڑی جاتی ہے، امریکا اب آپ کی مدد کو نہیں آئے گا، بالکل ویسے ہی جیسے آپ ہمارے لئے نہیں آئے تھے۔انہوں نے فرانس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پیرس بہت زیادہ غیر مدد گار ثابت ہوا ہے ۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا ٹرمپ نے کہا کہ فرانس نے اسرائیل جانے والے ان طیاروں کو اپنی حدود سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جو فوجی ساز و سامان سے لدے ہوئے تھے۔ روسی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ صدر ولادیمیر پیوٹن اور متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید آل نہیان کے درمیان آج ٹیلی فون پر رابطہ ہوا جس میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔دوننوں رہنماؤں نے بگڑتی ہوئی فوجی اور سیاسی صورتحال بشمول سویلین ہلاکتوں اور انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان پرگہری تشویش کا اظہار کیا۔بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ دشمنی کو جلد از جلد روکنے اور تنازع کے حل کے لئے سفارتی کوششیں تیز کرنے کی ضرورت ہے، جبکہ خطے کی ریاستوں کے ان مفادات کا احترام کیا جائے جنہیں انہوں نے قانونی مفادات قرار دیا ہے۔پینٹاگون کے سربراہ پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ ایران جنگ کے خاتمے کے لئے مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے۔ہیگستھ نے مذاکرات کے حوالے سے صحافیوں کو بتایا مذاکرات انتہائی حقیقی ہیں۔ یہ جاری فعال اور میرا خیال ہے کہ مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایران جنگ کے آنے والے دن فیصلہ کن ہوں گے،انہوں نے اس تنازع میں امریکی زمینی افواج کے کردار ادا کرنے کے امکان کو مسترد کرنے سے انکار کر دیا۔تقریباً دو ہفتوں میں اپنی پہلی پریس کانفرنس کے دوران ہیگستھ نے انکشاف کیا کہ انہوں نے ہفتے کے آخر میں مشرقِ وسطیٰ کے دورے پر وہاں تعینات امریکی فوجیوں سے ملاقات کی۔ خطے کے ذمہ دار امریکی کمانڈ کا حوالہ دیتے ہوئے ہیگستھ نے کہا ہم ہفتے کے روز تقریباً آدھے دن کے لئے سینٹ کام کے علاقے میں موجود تھے۔ آپریشنل سیکورٹی کی وجوہات کی بنا پر، تاکہ ان فوجیوں کو نشانہ نہ بنایا جائے، مقامات اور اڈوں کے نام ظاہر نہیں کئے جائیں گے۔اعلیٰ امریکی فوجی افسر، جنرل ڈین کین نے بھی ہیگستھ کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ امریکی افواج اب تک 11,000 سے زائد اہداف کو نشانہ بنا چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا "ایران کی بیلسٹک میزائل اور (ڈرون) صلاحیتوں کو تباہ کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔

اہم خبریں سے مزید