کوئٹہ (اسٹاف رپورٹر) صوبے اور ملک میں کسی بھی صورتحال میں تعلیمی اداروں کی بندش کو آخری آپشن میں رکھا جائے، کیونکہ تعلیمی ادارے ہی ہمارے قومی ملکی اور بین الاقوامی ادارے بناتے ہیں ،یہ بات صوبے کے ماہرین تعلیم نے گذشتہ روز اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جس میں پرنسپل سائنس کالج پروفیسر سراج کاکڑ،مجلس فکر و دانش عبدالمتین، پروفیسر ڈاکٹر معصوم خان یاسین زئی، پرائیویٹ سکولز فیڈریشن بلوچستان کے صدر نذر بڑیچ، پروفیسر عبدالرشیدعلیزئی، پروفیسر سعدیہ فاروقی، زاہد جان مندوخیل ، ڈاکٹر دوست محمد بڑیچ،پروفیسر ڈاکٹر فیصل احمد خان ،پروفیس ڈاکٹر لال خان کاکڑ، ڈاکٹر حافظ نقیب اللہ ، پروفیسر ڈاکٹر جمیل، پروفیسر عبدالرزاق پرکانی ،پرائیویٹ سکولز فاونڈیشن کےچیئرمین جعفر خان کاکڑ، فرید بگٹی اوردیگر ماہرین نے شرکت کی مقررین نے کہاکہ تعلیمی سہولیات کی فراہمی کے ساتھ تعلیمی نظام میں حائل رکاوٹیں ختم کرکے تعلیمی نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جائےہرطرح کے حالات میں تعلیم کو اولین ترجیحات میں رکھا جائے، جب تک تعلیم اور اساتذہ کو سہولیات اور ترجیح نہیں د ی جاتی مسائل بڑھتے جائیں گے شرکاء نے حکومت کی طرف سے تعلیمی اداروں کے کھولنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید کا اظہار کیا ہے کہ مستقبل میں تعلیمی اداروں کی بندش یا تبدیلی نظام کے عمل میں ماہرین تعلیم اور سٹیک ہولڈرز کو شریک کیاجائے گا۔