• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیراعلیٰ کی زیر صدارت کابینہ اجلاس، متعدد ترقیاتی منصوبوں کی منظوری

کراچی ( اسٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت کابینہ کا اجلاس، متعدد ترقیاتی منصوبوں کی منظوری،کے-فور منصوبے کی تکمیل کیلئے 13.9 ارب کی منظوری،گندم خریداری پالیسی منظور، فی من قیمت 3500 روپے مقرر،ملیر ہالٹ تا گھگھر پھاٹک سڑک سمیت مختلف شاہراہوں کی مرمت و توسیع کیلئے اربوں روپے کی منظوری،عورت فاؤنڈیشن کیلئے فنڈز،صوبائی کابینہ کا اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہوا، جس میں صوبائی وزراء، مشیران، خصوصی معاونین، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔سندھ کابینہ نے گریٹر کراچی بلک واٹر سپلائی اسکیم (کے فور)کے پاور حصے کے لیے جامع مالی اور عملدرآمدی منصوبہ بھی منظور کیا، تاکہ اہم پانی کے منصوبے کی بروقت تکمیل یقینی بنائی جا سکے۔ مالی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے کابینہ نے کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن (کے ڈبلیو ایس سی) لیے قرض کی بنیاد پر ماڈل کو گرانٹ-ان-ایڈ میکانزم میں تبدیل کرنے کی منظوری دی۔ 13.9 ارب روپے کی گرانٹ پاور انفراسٹرکچر کے لیے منظور کی گئی، جس میں 132 کے وی گرڈ اسٹیشن، 26 کلومیٹر کی ٹرانسمیشن لائن، 11 کے وی ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک اور 50 میگاواٹ بجلی کی لوڈ کے لیے عملہ کالونی شامل ہے۔سندھ کابینہ نے ربیع 26-2025ء کے سیزن کے لیے گندم خریداری کی پالیسی کی منظوری دی، جس کے تحت ایک ملین میٹرک ٹن گندم کے ہدف کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ غذائی تحفظ اور قیمتوں کی استحکام قائم رہے۔ کابینہ نے گندم کی اشارتی قیمت 3,500 روپے فی 40 کلوگرام مقرر کی۔ خریداری صرف سندھ گندم آبادگار سپورٹ پروگرام کے تحت رجسٹرڈ 332,000 سے زائد ہاریوں سے کی جائے گی۔کابینہ نے ملیر تا گھگھر پھاٹک 30.5 کلومیٹر طویل ڈوئل کیرج وے کی مرمت و تزئین کے لیے 2.55 ارب روپے کی سفارش منظور کی۔سیلاب سے متاثرہ سڑکوں اور پلوں کی بحالی کے لیے 888.244 ملین روپے جبکہ مختلف سڑکوں کی توسیع و مرمت کے لیے 1,966.401 ملین روپے کی منظوری دی گئی۔ تلہار تا ٹنڈو باگو اور نوشہرو فیروز روڈ سے مہران ہائی وے لنک روڈ منصوبے بھی شامل ہیں۔سینٹ پیٹرک اسکول کراچی میں جدید کثیرالمقاصد اسٹیڈیم کے لیے 10 کروڑ روپے منظور کیے گئے۔
اہم خبریں سے مزید