• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جنگ بندی، ایران نے درخواست کی، ٹرمپ، دعویٰ جھوٹا، تہران

تہران /دبئی (اے ایف پی /نیوزڈیسک ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکا سے جنگ بند کرنے کا کہا ہے لیکن ہم اس پر تب غور کریں گے جب آبنائے ہرمز کھلے گی‘انہوں نے نیٹو کو کاغذی شیر قراردیتے ہوئے کہا کہ وہ امریکا کواس اتحاد سے نکالنے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں‘بہت جلد ایران جنگ سے بھی باہر آجائیں گے اور اگر ضرورت پڑی تو ہم منتخب حملوں کے لیے واپس آئیں گےجبکہ ایک ذریعے کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستان کے ذریعے ایران کو پیغام پہنچایاہے کہ ٹرمپ جنگ بندی کے لیے تیار ہیں بشرطیکہ امریکا کے مخصوص مطالبات پورے کیے جائیں‘ علاوہ ازیں صدر ٹرمپ نے گزشتہ روزسعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے فون پر بات چیت کی ہے۔ ٹرمپ نے محمد بن سلمان کو ممکنہ جنگ بندی کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات پر بریفنگ دی جبکہ ٹرمپ کا اماراتی شیخ محمد بن زاید النہیان سے بھی رابطہ ہواہے ۔دونوں صدور نے خطے میں امن و امان کی بحالی اور تجارتی راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے باہمی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کا کہنا ہے کہجنگ پر اپنا مؤقف تبدیل نہیں کروں گا‘چاہے کتنا ہی دباؤ ہو، چاہے کتنا ہی شور ہو، میں برطانیہ کا وزیر اعظم ہوں اور مجھے اپنے قومی مفادات کے مطابق فیصلہ کرنا ہے‘دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ٹرمپ کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے اسے جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا ہے جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نےالجزیرہ کو بتایا ہے کہ انہیں اب بھی امریکی مندوب اسٹیو وٹکوف کے پیغامات مل رہے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ مذاکرات ہو رہے ہیں۔ پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز اس قوم کے دشمنوں کے لیے بند رہے گی‘ آبنائے ہرمز پر بحری دستوں کا مضبوط اور مکمل قبضہ ہے۔ عرب امارات کا کہنا ہے کہ اس نے ایران کے پانچ بیلسٹک میزائل اور35ڈرون مارگرائے ہیںجبکہ ایران نے اپنے مزاحمتی گروپوں کے ساتھ مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں امریکی اہداف پر 100سے زائد میزائل داغے ہیں جس کے نتیجے میںکویتی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ڈرون حملوں سے ایندھن کے ٹینکوں میں آگ لگ گئی جبکہ بحرین اورسعودی عرب میں بھی حملوں کی اطلاعات ہیں ۔ قطر نے بتایا کہ اس کے پانیوں میں ایک آئل ٹینکر کو ایرانی کروز میزائل سے نشانہ بنایا گیا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ پاسداران انقلاب کے مطابق یہ آئل ٹینکراسرائیل کا تھا۔ اماراتی ریاست فجیرہ میں ڈرون کا ملبہ گرنے سے ایک بنگلہ دیشی شہری ہلاک ہوگیا۔ ایران کی جانب سے داغے گئے بیلسٹک میزائلوں کی بوچھاڑ کے بعد القدس اور تل ابیب سمیت اسرائیل کے مختلف حصوں میں سائرن اور زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔اسرائیل کی ایمرجنسی سروسزکے مطابق ایرانی حملوں میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 14 ہو گئی ہے۔ دوسری جانب امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں وسطی ایران میں ایک ہوائی اڈے اور اسٹیل کے کارخانوں کو حملوں میں نقصان پہنچا۔ تہران میں سابق امریکی سفارت خانے کے قریب بھی دھماکے سنے گئے۔دوسری جانب، ایرانی حکام نے بتایا کہ ان کے سب سے بڑے مسافر ٹرمینل، شاہد حقانی پورٹ پر رات گئے حملہ کیا گیا، جسے انہوں نے سویلین انفراسٹرکچر پر "مجرمانہ" حملہ قرار دیا۔ بحرین نے امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ اور تہران کی جوابی کارروائیوں کے تناظر میں بدھ کو کہا ہے کہ وہ اس جنگ میں شامل نہیں ہو گا، جس کا وہ فریق نہیں۔

اہم خبریں سے مزید