کراچی (رفیق مانگٹ) امریکہ دنیا کا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک بن گیا۔ تیل پیداوار سعودی اور روس کی مجموعی پیداوار سے بھی آگے نکل گئی، یومیہ پیداوار بائیس ملین بیرل کے قریب، امریکہ کی درآمدات، کینیڈا کے بعد وینزویلا اہم سپلائر کے طور پر سامنے آگیا، برآمدات میں اضافہ۔۔۔ امریکہ روزانہ چار ملین سے زائد بیرل بیرون ملک بھیجنے لگا، یورپ اور ایشیا سب سے بڑے خریدار، مشرق وسطیٰ پر انحصار کم ہونے لگا۔ امریکہ دنیا کا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک بن گیا، تیل پیداوار سعودی عرب اور روس کی مجموعی پیداوار سے بھی آگے نکل گئی، امریکی تیل کی یومیہ پیداوار بائیس ملین بیرل کے قریب، امریکہ کی درآمدات، کینیڈا کے بعد وینزویلا اہم سپلائر، امریکہ روزانہ چار ملین سے زائد بیرل بیرون ملک بھیجنے لگا، یورپ اور ایشیا سب سے بڑے خریدار، مشرق وسطیٰ پر انحصار میں کمی آگئی۔ 2026 کے بین الاقوامی اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ ایک بار پھر دنیا کا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک بن کر ابھرا ہے اور اس کی یومیہ پیداوار دوسرے اور تیسرے نمبر پر موجود ممالک، سعودی عرب اور روس، کی مجموعی پیداوار سے بھی زیادہ ہے۔ 2026 میں امریکہ کی اوسط تیل پیداوار تقریباً تیرہ اعشاریہ چھ ملین بیرل یومیہ رہے گی رپورٹ کے مطابق 2027 میں پیداوار بڑھ کر تیرہ اعشاریہ آٹھ ملین بیرل یومیہ تک پہنچ سکتی ہے۔ عالمی درجہ بندی کے مطابق، دنیا کے دس سب سے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں امریکہ پہلے، سعودی عرب دوسرے اور روس تیسرے نمبر پر ہیں۔ تازہ اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ کی یومیہ پیداوار بیس اعشاریہ نو ملین سے بائیس اعشاریہ آٹھ ملین بیرل کے درمیان ہے، جو دنیا کی کل پیداوار کا پندرہ سے بیس فیصد حصہ بنتی ہے۔ یہ مقدار نہ صرف سعودی عرب کی دس اعشاریہ آٹھ سے گیارہ اعشاریہ دو ملین بیرل یومیہ پیداوار سے زیادہ ہے بلکہ روس کی دس اعشاریہ پانچ سے دس اعشاریہ نو ملین بیرل یومیہ پیداوار کو بھی پیچھے چھوڑ دیتی ہے۔