کراچی ( اسٹاف رپورٹر) ایران جنگ کے بعد برآمدی کنٹینرز بندرگاہوں پر پھنس گئے، برآمدکنندگان پر جرمانے عائد کرنا غیرمنصفانہ ہے، 24 فروری تا 10 مارچ کے تمام کنٹینرز پر مکمل رعایت دی جائے، غیر منصفانہ بوجھ برآمدات کو کمزور کرے گا، پاکستان کی عالمی مارکیٹوں میں ساکھ کو نقصان پہنچے گا ، واضح پالیسی ہدایت ضروری ہے، سابق نائب صدر ایف پی سی سی آئی اور معروف فارن ٹریڈ اور لاجسٹکس ماہر خرم اعجاز نے برآمدکنندگان پر پورٹ حکام اور شپنگ لائنز کے غیر منصفانہ اور استحصالی رویے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ برآمدکنندگان جو پہلے ہی توانائی کے بلند نرخوں اور عالمی طلب میں کمی سے پریشان ہیں اب بندرگاہوں پر پھنسے کنٹینرز کے باعث بھاری ڈیمریج اور ڈیٹینشن چارجز کا سامنا کر رہے ہیں۔خرم اعجاز نے وزارتِ بحری امور اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ 24 فروری سے 4 مارچ کے درمیان بندرگاہوں پر پہنچنے والے تمام کنٹینرز کو فورس میجورکے تحت قرار دیا جائے اور ڈیمریج، ڈیٹینشن اور کرایہ مکمل طور پر معاف کیا جائے۔ اگر شپنگ لائنز یا ٹرمینل آپریٹرز یہ اخراجات برداشت نہیں کر سکتے تو حکومت کو عارضی معاوضہ یا سپورٹ میکانزم پر غور کرنا چاہئے۔انہوں نے وزارتِ بحری امور اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ 24 فروری سے 4 مارچ کے درمیان بندرگاہوں پر پہنچنے والے تمام کنٹینرز کو فورس میجر کے تحت قرار دیا جائے۔