اسلام آباد(خالد مصطفیٰ ) چینی حکومت نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ یونائیٹڈ انرجی پاکستان (یو ای پی) کے 22 کروڑ ڈالر کے طویل عرصے سے واجب الادا بقایا جات کی ادائیگی یقینی بنائے۔ حکام کے مطابق یو ای پی، چین کی یونائیٹڈ انرجی گروپ کی ذیلی کمپنی ہے۔پٹرولیم ڈویژن کے ذرائع کے مطابق بیجنگ میں پاکستان کے سفیر نے ایک ہنگامی مراسلہ بھیجا ہے، جس میں نشاندہی کی گئی کہ یہ واجبات یو ای پی کی جانب سے سوئی سدرن گیس کمپنی کو فراہم کی جانے والی گیس کے بدلے ہیں، جس کی موجودہ فراہمی 26 سے 27 کروڑ مکعب فٹ یومیہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق مالی دباؤ کے باعث یو ای پی نے حالیہ ہفتوں میں عملے میں کمی بھی کی ہے۔ سوئی سدرن گیس کمپنی کا مؤقف ہے کہ اس کے اربوں روپے کے ریفنڈز فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے پاس زیر التوا ہیں، جن کی ادائیگی کے بعد ہی وہ یو ای پی کو واجبات ادا کر سکتی ہے۔یو ای پی نے 2011 میں برٹش پٹرولیم پاکستان کے اثاثے حاصل کر کے کمپنی کا نام تبدیل کیا تھا۔ 2012 میں اسے چین ڈیولپمنٹ بینک سے 5 ارب ڈالر کی کریڈٹ لائن ملی، جس کا مقصد مقامی آپریشنز اور ممکنہ خریداریوں کو وسعت دینا تھا۔