• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گل پلازہ پلاٹ کی حیثیت کمرشل یا رہائشی، سرکار کے پاس ریکارڈ نہیں

کراچی (اسٹاف رپورٹر) گل پلازہ پلاٹ کی بنیادی حیثیت رہائشی مقصد کے لئے تھی یا کمرشل سرکار کے پاس ریکارڈ دستیاب نہیں ، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو اور میونسپل کمشنر نے تحقیقاتی کمیشن کے روبرو جوابات جمع کرا دیئے، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو نے جمع کرئے گئے جواب میں کہا ہے کہ 8128 مربع گز پر مشتمل گُل پلازہ کا پلاٹ اصل میں صوبائی حکومت کی ملکیت ہے اور بلدیہ عظمیٰ کو اس اراضی پر محدود انتظامی و مالی اختیارات حاصل تھے تاہم گل پلازہ کی زمین کی کیٹیگری کے حوالے سے اصل شرائط کی تعمیل کا کوئی آڈٹ یا جائزہ ریکارڈ پر موجود نہیں، رپورٹ ڈسٹرکٹ رجسٹرار کراچی، ڈپٹی ڈائریکٹر لینڈز کے ایم سی اور مختار کار صدر سے حاصل شدہ ریکارڈ کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے، گل پلازہ کی اراضی ابتدا میں کراچی میونسپلٹی کی ملکیت کے طور پر ریکارڈ میں شامل تھی، 1936 میں معاہدے کے تحت اراضی کو ایسٹ انڈیا ٹرام وے کمپنی لمیٹڈ کو 99 سالہ لیز پر دیا گیا تھا، اطلاق 9 جولائی 1884 سے ظاہر کیا گیا ہے، 1950 میں اراضی نجی افراد کے نام منتقل ہوئی، 1976 میں تمام حصص انور علی کے نام منتقل ہوئے، 1983 میں مذکورہ پلاٹ میسرز جینیکا لمیٹڈ نے خریدا، اراضی 1873 میں بمبئی حکومت کے ریونیو ڈیپارٹمنٹ کی قرارداد نمبر 6072 کے تحت کراچی میونسپلٹی کو منتقل کی گئی تھی، کراچی میونسپلٹی اور ایسٹ انڈیا ٹرام وے کمپنی کے درمیان 1936 کے معاہدہ کے علاوہ کوئی معاہدہ ریکارڈ میں نہیں ہے۔
اہم خبریں سے مزید