• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پرائس ڈیفرنشل کلیمز نظام میں تبدیلیوں سے دستیاب نقدی شدید متاثر ہوگی، تیل صنعت

اسلام آباد(خالد مصطفیٰ ) پاکستان کے آئل مارکیٹنگ سیکٹر نے پرائس ڈیفرینشل کلیمز (PDC) کے نظام میں مجوزہ تبدیلیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر مناسب نظرثانی کے بغیر عمل کیا گیا تو اس سے صنعت کی لیکویڈیٹی شدید متاثر ہو سکتی ہے اور ایندھن کی فراہمی میں خلل پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ (اوگرا) کو بھیجے گئے ایک باضابطہ خط میں آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل(اوکاک) نے اس بات پر تشویش ظاہر کی ہے کہ ریگولیٹر قابلِ ادائیگی پی ڈی سی کلیمز میں سے 10 فیصد رقم ادائیگی کے وقت روکنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ صنعت کے رہنماؤں کے مطابق اس اقدام سے اربوں روپے پھنس سکتے ہیں اور ملک بھر میں ایندھن کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔صنعتی اندازوں کے مطابق ابتدائی 27 ارب روپے کے کلیم پر اس روک کے فوری اثرات تقریباً 2.7 ارب روپے ہوں گے، جبکہ دوسرے مرحلے میں 47 ارب روپے کے کلیمز کے بعد یہ مجموعی رقم بڑھ کر تقریباً 7.4 ارب روپے تک پہنچ سکتی ہے۔ اسٹیک ہولڈرز کے مطابق یہ اقدام، اگرچہ مالیاتی تصدیق بہتر بنانے کے لیے ہے، مگر اس سے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (OMCs) کی پہلے سے کمزور نقدی پوزیشن مزید خراب ہو سکتی ہے۔اوکاک نے اوگرا کو دی گئی اپنی باضابطہ نمائندگی میں کہا کہ یہ اضافی کٹوتی مارچ 2026 میں متعارف کرائے گئے پی ڈی سی فریم ورک کے علاوہ ہے، جس میں پہلے ہی آڈٹ شدہ کلیمز کی جمع آوری اور ادائیگی کے طریقہ کار طے کیے جا چکے ہیں۔

اہم خبریں سے مزید