اسلام آباد(نیوز رپورٹر)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ جنگ کے شعلے روکنے کیلئے فیلڈمارشل کا کردار کلیدی ہے ، ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی کوششیں جاری رکھیں گے ، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی ہم منصب اور دیگر ممالک کے وزرا خارجہ سے کئی مرتبہ گفتگو کی، وہ بہت محنت کر رہے ہیں، انہوں نے چین کا دورہ کیا، انہیں بازو پر چوٹ بھی آئی لیکن انہوں نے اس کی پرواہ نہیں کی، خطے میں جنگی صورتحال کے باعث معاشی مشکلات کا ذکرکرتے ہوئے قومی یکجہتی، اتحاد و اتفاق، سیاسی استحکام اور مل کر چیلنجز سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ اب اشرافیہ کو قربانی دینا ہو گی، وفاق اور صوبے کم اہم منصوبوں کو روکیں تاکہ عام آدمی کا تحفظ کیا جا سکے، کفایت شعاری کرکے فنڈز جمع کرنا ہوں گے، زرعی شعبے، پبلک و گڈز ٹرانسپورٹ کو بچانا ہو گا تاکہ عام آدمی مہنگائی سے کم سے کم متاثر ہو، وفاق اب تک 129 ارب روپے کا بوجھ اٹھا چکا ہے، پاکستان جنگ بندی کیلئے حتی المقدور کوشش کر رہا ہے، اللہ کی مہربانی سے خطے میں امن قائم ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو خطے کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزرا ، چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان کے وزرا ئےاعلیٰ، آزاد کشمیر کے وزیراعظم، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی موجود تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ خطے میں جنگ دوسرے مہینے میں داخل ہو چکی ہے،ہمیں شہادتوں پر بہت افسوس ہے، ہم نے اپنے تعزیتی پیغامات مختلف اوقات میں جاری کئے، خطے میں جنگ کے شعلے ٹھنڈے کرنے کیلئے پاکستان نے مخلص دوست اور برادر ملک کے طور پر بھرپور کوششیں کی ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ اسی طرح چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں، پاکستان نے جنگ بندی کرانے کیلئے حتی المقدور کوششیں کی ہیں اور یہ کوششیں اب بھی جاری ہیں، اللہ تعالی کے فضل و کرم سے اس میں کامیابی حاصل ہو گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان دیگر ممالک کی طرح اس جنگ سے بہت متاثر ہو رہا ہے، معاشی ترقی کیلئے ہم سب نے پچھلے دو سال کے دوران مل کر بہت کاوشیں کی ہیں اور پاکستان کی معیشت کو میکرو سطح پر مستحکم بنا دیا ہے، اس وقت ترقی و خوشحالی کا وقت آ چکا ہے لیکن بدقسمتی سے اس جنگ کی وجہ سے ہمیں معاشی طور پر بے پناہ مشکلات کا سامنا ہے، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اور فیلڈ مارشل کی کاوشوں سے ہمارے دو بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں، پاکستانی پرچم بردار مزید 20 بحری جہازوں کو بھی آبنائے ہرمز سے گزارنے کا انتظام کیا گیا ہے، آئندہ چند دنوں میں اس حوالے سے بھی پیشرفت ہو گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ جب جنگ کا خطرہ منڈلا رہا تھا تو میں نے مختلف اجلاس منعقد کئے اور ہماری ٹیم نے چاروں صوبوں کے وزرا اعلی سے ملاقاتیں کیں اور انہیں تمام صورتحال سے آگاہ کیا۔ پہلے ہفتے میں ہمیں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 55 روپے کا اضافہ کرنا پڑا، پاکستان کے محنتی کسانوں، مزدوروں اور دکانداروں کیلئے یہ بے پناہ معاشی بوجھ تھا لیکن انہوں نے اس کو برداشت کیا، اجتماعی اور بھرپور کاوشوں سے ہم نے بروقت صورتحال کا ادراک کیا اور اقدامات اٹھائے، کابینہ کے ارکان نے اپنی دو ماہ کی تنخواہ نہ لینے کا فیصلہ کیا، تیل کی کھپت میں 50 فیصد کی کٹوتی کی گئی، پارلیمنٹ کے ارکان نے بھی اس میں حصہ ڈالا، تیل کی بچت کیلئے 60 فیصد گاڑیوں کا استعمال بند کر دیا گیا۔