• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

IMF پٹرولیم لیوی میں نرمی سے گریزاں، حکومت کی صارفین کیلئے ریلیف کی درخواست

اسلام آباد:(انصار عباسی)…بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) نے پاکستان کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی میں نرمی کی درخواست کو قبول کرنے سے گریز ظاہر کیا ہے، اگرچہ حکومت ایران جنگ کے سبب عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں کے اثرات سے عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ریلیف دینے کی کوشش کر رہی ہے۔باخبر ذرائع کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کو جمعرات کو IMF کے ابتدائی ردعمل کے بارے میں آگاہ کیا گیا، جس میں لیوی کے ڈھانچے میں کسی قسم کی رعایت کی حمایت نہیں کی گئی۔ تاہم وزیر اعظم نے وزارت خزانہ کو ہدایت کی کہ وہ دوبارہ IMF سے رابطہ کرے اور عوام پر بوجھ کم کرنے کے لیے نرمی کی تجویز دوبارہ پیش کرے۔ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے کا مکمل اثر صارفین پر منتقل کرنا عوام کے لیے ’’کچھ زیادہ‘‘ ہوگا اور مہنگائی میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے۔ انہوں نے اقتصادی حکام سے کہا کہ وہ تمام ممکنہ اقدامات پر غور کریں تاکہ اس صورتحال کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب حکومت پہلے ہی IMF سے پٹرولیم لیوی میں تبدیلی کی اجازت لینے کی کوشش کر رہی تھی تاکہ عالمی قیمتوں کے اثرات کا کچھ حصہ عوام پر نہ آئے۔ تاہم فنڈ محتاط ہے اور پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کو اہم ریونیو ذریعہ اور جاری پروگرام کی شرائط کے ایک کلیدی جزو کے طور پر دیکھ رہا ہے۔اس مسئلے پر اس ہفتے کے آغاز میں بھی بات ہوئی تھی۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے وزارت خزانہ کو ہدایت کی تھی کہ وہ پٹرول اور ڈیزل پر لگنے وا لی لیوی کے ڈھانچے کے بارے میں IMF سے رابطہ کرے، تاکہ ایران جنگ کے باعث بڑھتی ہوئی عالمی تیل کی قیمتوں کا عوام پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔وزیر اعظم نے کہا کہ وزارت خزانہ IMF سے یہ معاملہ اٹھائے تاکہ اگر پٹرولیم قیمتوں میں کسی قسم کی ضرورت کے مطابق ایڈجسٹمنٹ ہو، تو اسے موجودہ محصولات کے ساتھ متوازن کیا جا سکے۔ اس وقت حکومت پٹرول پر فی لیٹر 100 روپے اور ڈیزل پر فی لیٹر 55 روپے لیوی عائد کر رہی ہے، جو IMF کی شرائط کا حصہ ہیں۔حکومت پہلے ہی صارفین کو خاطر خواہ ریلیف فراہم کر چکی ہے، تقریباً 129 ارب روپے سبسڈی کے ذریعے ایندھن کی قیمتیں مستحکم رکھی گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ ریلیف ترقیاتی بجٹ میں کمی اور دیگر اخراجات میں بچت کے ذریعے ممکن بنایا گیا، جو ظاہر کرتا ہے کہ حکومت عوام کو بیرونی جھٹکوں سے محفوظ رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔

اہم خبریں سے مزید