لاڑکانہ( بیورو رپورٹ) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عوامی ریلیف کیلئے حکومت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو استعمال کرے، جنگی حالات ہیں وفاقی حکومت منی بجٹ لانا چاہتی ہے تو ہم حمایت کرینگے، ایران جنگ کے اثرات پوری دنیا آنے شروع ہوگئے ہیں، جنگ کی وجہ سے جن معاشی بحران کا سامنا ہے اس کیلئے اقدامات ناکافی ہیں، معلوم نہیں یہ مشکل صورتحال کب تک چلے گا، چاروں صوبوں نے مل کر وفاقی حکومت کا ساتھ دیا ہے، سندھ حکومت اپنے وسائل سے کسانوں کی مدد اور موٹر سائیکل سواروں کو پٹرول پر سبسڈی دیگی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کے 47 ویں یوم شہادت پر گڑھی خدابخش میں منعقد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ اِس وقت نہ صرف ملک کے اندر، بلکہ عالمی سطح پر بھی بھٹو شہید جیسی قیادت کی کمی اور بحران کو محسوس کیاجا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا-اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کے نقصانات پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں اور اُسکے اثرات ہر پاکستانی بھی محسوس کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والی مہنگائی اور بے روزگاری کا بوجھ دنیا بھر کی غریب عوام کی طرح پاکستان میں بھی غریب شہریوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہم نے پہلے بھی مشکل ترین حالات کا مقابلہ کیا ہے اور ہم اب بھی متحد ہوکر مشکل صورتحال کا سامنا کرینگے۔ انہوں نے کہاکہ کچھ قوتیں نفرت اور تقسیم کی سیاست پر یقین رکھتی ہیں، لیکن پیپلزپارٹی نے ہمیشہ قوم کو متحد کیا اور ہم اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ یئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ چیلنجز کے باوجود ہم نے بہت محنت کی ہے اور تمام صوبوں نے مِل کر کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عید کے موقع پر لاڑکانہ میں وفاقی وزراء کے ایک وفد نے انہیں بریفنگ میں بتایا تھا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے حکومت تیل پرسبسڈی فراہم کر رہی ہے، لیکن اپریل میں اسے جاری رکھنا ممکن نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں صوبائی حکومتیں بھی اپنے اپنے بجٹ میں کٹوتی کرکے عوام کو ریلیف دینے والے اقدامات میں حصہ ملانے کیلئے تیار ہیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وفاقی حکومت کیلئے ممکن نہیں ہے کہ وہ بلینک سبسڈی جاری رکھ سکے۔