کراچی (ٹی وی رپورٹ) سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا کہ اس وقت امریکہ کے پاس آپشن بہت کم ہیں۔ایران پر دو دفعہ مذاکرات کے درمیان ہی حملے کئے گئے اس لئے اب وہ بہت محتاط ہے۔ پاکستان ہمیشہ درست سمت میں رہا ہے۔
وہ جیو نیوز کے پروگرام ’’جرگہ‘‘ میں میزبان سلیم صافی سے گفتگو کر رہی تھیں۔
تفصیلات کے مطابق پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے حنا ربانی کھر نے کہا کہ پاکستان کی خلیجی ممالک کے ساتھ بالکل ہمدردی ہے اور ہونی بھی چاہئے ہم اس بات کے حق میں نہیں ہیں کہ وہ اس جنگ کی لپیٹ میں آئیں ۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی تعلقات اور بین الاقوامی قانون کے مطابق وہ فوجی اڈے جہاں سے آپ کے ملک پر حملہ کیا گیا وہ قانونی طور پر ہدف بن سکتے ہیں کیونکہ حملہ آپ پر اسی جگہ سے ہوا۔
ایران نے بھی فوری طور پر کہا کہ اپنے فوجی اڈوں کو ہمارے خلاف حملے کے لئے استعمال نہ ہونے دیں ورنہ ہم جواب میں کارروائی کریں گے۔ یہ سب بین الاقوامی قوانین طرزِ عمل کے اصول اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہے۔
لیکن اگر آپ ان اصولوں کی خلاف ورزی کریں اور کہیں کہ ہم آپ کی یونیورسٹیاں، تحقیقاتی ادارے عام عمارتیں یا فوجی تنصیبات پر حملہ کر سکتے ہیں یا آپ کے نیوکلیئر ادارے تباہ کر سکتے ہیں، تو یہ سب جائز نہیں ہوگا
ان کا کہنا تھا کہ آپ کا سکیورٹی کا حق اسی وقت تک نہیں قائم ہوگا جب تک آپ کو خطرہ محسوس نہ ہو اور اس کے باوجود آپ کو بین الاقوامی قانون کی حدود سے باہر نہیں جانا چاہئے تو اب اگر آپ ان کی یونیورسٹیز پر حملہ کریں گے وہ بھی کریں گے۔