• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہم نے کلونیل سسٹم کے تحت عدالتی نظام اپنایا، مذاکرات سے تنازعات کا حل ممکن، سابق جج منصور علی شاہ

لاہور(کورٹ رپورٹر )پاکستان لاء سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام تنازعات کے حل کیلئے اے ڈی آر سسٹم پر دوسری قومی کانفرنس کا انعقاد ہوا میزبانی کے فرائض ایگزیکٹو ڈائریکٹر بلال عبدالرحمٰن نے ادا کئے،سابق جج سپریم کورٹ منصور علی شاہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم نےکلو نیل سسٹم کے تحت عدالتی نظام اپنایا، مذاکرات سے تنازیعات کا حل ممکن ہے۔خواتین وکلاء کو مصالحت کاری کی طرف آنا چاہئے ،ہمیں کاروباری تنازعہ حکم امتناعی کی سوچ بدلنا چاہئے ،اگر کاروبار شروع کرتے وقت تنازعات کے حل کیلئے ایک وکیل کو ساتھ رکھا جائے تو مسئلہ شروع میں حل ہو جائے ،وکلاء کو سائنس ٹیکنالوجی کو سمجھنا چاہئے اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس سیکھنا چاہئے پاکستان کا مستقبل کا نظام انصاف اے ڈی آر ہے ،اے ڈی آر نظام انصاف کا تاریخی اور بنیادی سسٹم ہے ،بدقسمتی سے ایک قانون کی وجہ سے پاکستان میں آربیٹریشن ہونا بہت مشکل ہے ،جب تک آربیٹریشن نہیں آتا اس وقت تک مصالحت ہوسکتی ہے ،عدالتی نظام آنے سے اے ڈی آر کو فرق نہیں پڑتا ہے ،جب اقوام بنیں تو ریاست نے کہا کہ ہم انصاف دیں گے ،لیگل پروفیشنل تشکیل پایا اور عدالتیں بنائی گئیں ،ہم نےکلونیل سسٹم کے تحت عدالتی نظام اپنایا ،گفتگو، مذاکرات سے فطری اور قدرتی طور پر مسائل حل ہو سکتے ہیں ،عدالت چاہئے لیکن صرف کچھ مخصوص ایشوز کیلئے چاہئے ،چائنیز پراجیکٹس کیخلاف کیس بازی نہیں چاہتے ،چائنیز کے مطابق کیسز تعلقات ختم کرتے ہیں اس لیے مصالحت کی طرف جاتے ہیں ،ماؤزے تنگ نے ایک ملین کے قریب کمیٹیوں کے ذریعے کروڑوں ایشوز ختم کئے ،اسلام ہمیں صلح کے ذریعے تنازعات حل کرنے کو ترجیح دیتا ہے ،ہمارے نبی ؐ نے متعدد تنازعات مصالحت سے حل کئے ،مصالحت کیلئے ایسا لائحہ عمل ہو کہ دونوں فریق مطمئن ہوں ،مصالحت کار کو اچھا سننے والا ہونا چاہیے ،مصالحت کار کو دونوں فریقوں کے مفادات کو سمجھنا اور تحفظ کرنا چاہیے ،ترکی، امریکا، اٹلی، انڈیا میں عدالتی کیس سے قبل مصالحت لازمی ہے ،پاکستان میں 20 لاکھ کیسز عدالتوں میں ہیں اور ججز 3 ہزار ہیں ،کیسز زیادہ دائر ہو رہے ہیں فیصلے کم ہورہے ہیں۔
اہم خبریں سے مزید