برطانیہ میں معذوری یا صحت کے مسائل سے دوچار افراد کو دکانوں یا دیگر سروسز تک بآسانی پہنچنے کے لیے پارکنگ کی سہولت مہیا کرنے والے بلیو بیج کے غلط استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا ہے اور ہر بیس میں سے ایک بلیو بیج کا غیرقانونی طریقے سے استعمال کیا جا رہا ہے۔
لوکل گورنمنٹ ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ بلیو بیج کا غلط استعمال ناقابل قبول ہے اور یہ ایک جرم ہے، انہوں نے فراڈ کرنے والوں کے خلاف مقامی کونسلوں کو مزید اختیارات دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پولیس کے ساتھ مل کر کام کریں۔
ڈپارٹمنٹ فار ٹرانسپورٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس 31 مارچ تک انگلینڈ میں 5.2 فیصد لوگوں کے پاس بلیو بیج موجود تھا اور گزشتہ برس 3.7 ملین نئے کارڈ جاری ہوئے جو کہ سب سے زیادہ نارتھ ایسٹ کے لیے 6.1 فیصد اور سب سے کم لندن کے لیے 3.5 فیصد تھے۔
2019 سے بلیو بیج صرف ظاہری معذوری رکھنے والے افراد کے علاوہ پارکنسنز، ڈیمینشیا اور مرگی جیسے غیر ظاہری بیماریوں میں مبتلا افراد کو بھی جاری کیے گئے۔ بلیو بیج رکھنے والے ڈرائیور اکثر پے پارکنگ والے مقامات پر مفت پارکنگ اور سنگل اور ڈبل ییلو لائن پر تین گھنٹے تک پارکنگ کر سکتے ہیں۔
لندن میں یہ بیج رکھنے والوں کو اٹھارہ پاؤنڈ کے کنجئشن چارج سے بھی استثنیٰ حاصل ہے۔ لندن کی کرائیڈن کونسل نے جنوری میں سات افراد کو بلیو بیج کے غلط استعمال پر جرمانوں، عدالتی اخراجات اور فیس کی مد میں چھ ہزار پاؤنڈ ادا کرنے کا حکم دیا۔