• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جے ڈی وینس پاکستان کی امریکا ایران ثالثی کی آخری کوششوں میں شامل کیوں ہوئے؟

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں پاکستان کا ثالثی کردار مضبوط نظر آیا جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی پسِ پردہ مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا۔

عرب میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے پہلی بار تصدیق کی کہ ایران کے ساتھ سفارتی کوششوں میں وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور نائب صدر جے ڈی وینس براہِ راست شامل ہیں۔

’الجزیرہ‘ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان مارچ کے اختتام سے امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں کی قیادت کر رہا ہے، پاکستانی آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جے ڈی وینس، امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے رابطے کیے جن کا مقصد جنگ روکنے کے لیے دو مرحلوں پر مشتمل منصوبہ تیار کرنا تھا۔

رپورٹ کے مطابق امریکی وفد دو مرتبہ اسلام آباد آنے کے قریب تھا مگر ایران نے اندرونی مشاورت کے لیے مزید وقت مانگتے ہوئے ملاقات مؤخر کر دی۔

ادھر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے توانائی تنصیبات پر حملوں کی دھمکی دے رکھی تھی جبکہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے جواباً خبردار کیا تھا کہ مزید حملوں کی صورت میں تمام پابندیاں ختم کر دی جائیں گی۔

حالیہ جھڑپوں میں ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز خارگ جزیرے پر حملہ جبکہ ایران کی جانب سے سعودی عرب کی جبیل پیٹروکیمیکل تنصیب کو نشانہ بنانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

ایران جے ڈی وینس کو کیوں ترجیح دے رہا ہے؟

عرب میڈیا کے مطابق تہران جے ڈی وینس کو دیگر امریکی شخصیات کے مقابلے میں زیادہ قابلِ قبول سمجھتا ہے، اس کی دو بڑی وجوہات بتائی جا رہی ہیں جن میں جے ڈی وینس کی جانب سے ماضی میں ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت کرنا اور ماضی میں اِن مذاکرات میں شامل نہ ہونا شامل ہے جن کے دوران ہی امریکا نے ایران پر اسرائیل کے ساتھ مشترکا حملہ کر دیا تھا، جسے ایران اعتماد شکنی قرار دیتا ہے۔

ایرانی ماہر جواد حیران نیا کے مطابق ایران کے اندرونی سیاسی حالات اور سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد طاقت کے توازن میں تبدیلی نے بھی مذاکرات کو حساس بنا دیا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق جے ڈی وینس کی سفارتی سرگرمیوں کو امریکا کی اندرونی سیاست سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔

اِنہیں 2028ء کے صدارتی انتخاب کے ممکنہ امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور جنگ ختم کروانے میں کردار اِن کی سیاسی پوزیشن مضبوط کر سکتا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید