مانچسٹر (این این آئی)پاکستان قونصلیٹ جنرل مانچسٹر کی عمارت کی پرائیویٹ فنڈنگ سے توسیع کا معاملہ ایک معمہ بن گیا ہے جس سے مانچسٹر کی پاکستانی کمیونٹی سیاسی طور پر تقسیم اور تذبذب کا شکار ہوگئی ہے۔ کمیونٹی نے پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات مختلف پہلوؤں سے کرائے کہ نجی فنڈنگ حاصل کرنے اور قونصلیٹ کی عمارت میں توسیع کی ضرورت کیوں پیش آئی؟جبکہ پاکستانی ویزہ سروس آن لائن ہونے کی وجہ سے سائلین کو اب قونصلیٹ آنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اسی طرح نادرا اور پاکستانی پاسپورٹ کے عملے کا کمیونٹی سے ناروا سلوک اور ایجنٹ مافیا کے قونصلیٹ میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی شکایات پر حکامِ بالا نے کوئی ایکشن نہیں لیا۔یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ کسی بھی پاکستانی سفارتی مشن میں نجی فنڈنگ سے کرائے جانے والے کام اور اخراجات کا آڈٹ نہیں ہوسکتا۔ ”این این آئی “کی جانب سے جب قونصل جنرل مانچسٹر، امتیاز فیروز گوندل سے اس بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے تصدیق کی کہ قونصلر ہال کی عمارت کی توسیع بلیک اسٹون پراپرٹی سروسز کے مالی تعاون سے کی گئی ہے، جبکہ ان کے اپنے دفتر کی تزئین و آرائش قونصلیٹ کے اپنے فنڈز سے کی گئی ہے۔