کراچی (ٹی وی رپورٹ) ماہرین منیر اکرم، جلیل عباس جیلانی اور ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ اسلام آباد امن مذاکرات میں فوری نتیجہ کی توقع نہ کی جائے یہ کافی لمبے عرصے جاری رہ سکتے ہیں۔ مذاکرات میں امریکی نائب صدر جی ڈی وینس کا شامل ہونا مذاکرات کو کامیاب بنا سکتا ہے وہ ایک سیاستدان ہیں۔جیو نیوز کے پروگرام ’کیپٹل ٹاک‘ میں میزبان حامد میر نے اپنے تجزیئے میں کہا کہ امن مذاکرات کو ناکام بنانے کے لئے بہت سی طاقتیں سرگرم ہوچکی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق پروگرام کے آغاز میں میزبان حامد میر نے کہا کہ نیتن یاہو نے لبنان پر حملوں میں اضافہ کر دیا ہے ۔ عالمی میڈیا میں صیہونی لابی بھی مذاکرات ناکام بنانے میں سرگرم ہوچکی ہے۔ وائٹ ہاؤس پاکستان کی منت کر رہا تھا کہ ایران کے ساتھ سیزفائر کروائیں اور دوسری طرف ایران کو دھمکی دے رہا تھااور جب پاکستان نے چین کی مدد سے بریک تھرو کیا تو لبنان کو سیز فائر سے ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یو این سکیورٹی کونسل کے سابق صدر منیر اکرم نے کہا کہ جامع معاہدہ تو شاید مشکل ہو البتہ مذاکرات پوری طرح ناکام بھی نہیں ہوں گے اور جامع مذاکرات میں بہت وقت لگے گا۔ اسرائیل کی خواہش یہی تھی کہ جنگ جاری رہے چونکہ اگر جنگ رکتی ہے تو نیتن یاہو کو داخلی مسائل کا سامنا ہوگا لبنان پر حملوں سے متعلق انہوں نے کہا کہ اب دیکھنا ہوگا امریکہ اسرائیل کو کس حد تک روکنے میں کامیاب ہوتا ہے ۔ اسرائیل لبنان پر حملے بند نہیں کر رہا ہے اور اس پر ایران نے آبنائے ہرمز بند رکھیں گے اگر وہ بند رہے گی تو امریکہ کہے گا ہماری بنیادی شرط یہی تھی کہ اسے کھولا جائے تو ا س لئے ضروری ہے کہ فوری طور پر لبنان پر حملے بند کیے جائیں۔ تاہم مذاکرات پر فوری طور پر کوئی بریک تھرو نظر نہیں آرہا ہے البتہ مذاکرات کا سلسلہ جاری رہنا چاہئے اور اس طرح کے مذاکرات وقت لیتے ہیں اور اس دوران بہت سے اُتار چڑھاؤ بھی آتے ہیں ۔ سابق سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی نے کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات بالکل آسان نہیں ہوں گے تاہم پاکستان کی سیاسی اور عسکری لیڈرشپ کی کامیابی ہے کہ وہ کامیاب سفارتکاری کے نتیجہ میں دونوں فریقین کو ٹیبل تک بیٹھانے میں کامیاب رہے ہیں۔ ٹرمپ کا جے ڈی وینس کو مذاکرات میں نامزد کیا اس بات سے مثبت توقعات رکھی جاسکتی ہیں۔ امریکہ جانتا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوں گے تو ان کی اندرونی سیاست متاثر ہوگی۔ ایران بھی امن چاہتا ہے تاکہ جو ایران میں بدحالی ہے اس کو دور کیا جاسکے۔مذاکرات کی کامیابی امریکہ کے لئے بہت اہم ہے اس لئے ضروری ہے کہ امریکہ اسرائیل کو حملوں سے باز رکھے۔دونوں طرف سے دباؤ میں لینے کے لئے بیانات چلتے رہیں گے۔ مذاکرات کی کامیابی کی ضرورت دونوں ممالک کو ہے اس لئے فریقین کو لچک دکھانا پڑے گی۔ ایران پر سے پابندیاں ختم ہوجاتی ہیں تو پاکستان سمیت خطے کے تمام ممالک کو فائدہ ہوگا اور فوری طور پر پاک ایران گیس پائپ لائن فعال ہوسکتی ہے۔ سابق سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ اس وقت اسرائیل کی وجہ سے ماحول خراب ہو رہا ہے پہلی توجہ ہماری اُس طرف ہونی چاہئے اسرائیل نے لبنان پر جان بوجھ کر حملہ کیا ہے جس میں دو سو سے زائد لوگ شہید ہوئے ہیں اور اس کا صاف مقصد یہی ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کو ناکام بنادے اور اسی لئے اس کی ذمہ داری امریکہ پر آتی ہے کہ وہ اسرائیل کو قابو میں رکھے۔جے ڈی وینس کا انتخاب کرنا اچھا عمل ہے چونکہ وہ سیاستدان ہیں اور سیاستدان جانتا ہے ریڈ لائن بوٹم لائن کیا ہے مشترکہ نکات پر کیسے آیا جاتا ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ وینس شروع سے اس جنگ کے حامی نہیں رہے ہیں۔ ٹرمپ ہمیشہ دباؤ بڑھانا چاہتے ہیں تاہم ان کی یہ اسٹرٹیجی جنگ میں پوری طرح ناکام رہی ہے۔میں سمجھتی ہوں چوبیس گھنٹے کے لئے ’وار آف ورڈز‘ کا بھی سیز فائر ہونا چاہئے۔ لبنان سے متعلق پاکستان اور ایران ایک سمت کھڑا ہے۔