• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شہباز یا عاصم منیر، مذاکرات کا لیڈر کون، بھارتی صحافی کا سوال، حامد میر کا کرارا جواب

کراچی(جنگ نیوز)سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر کا بھارتی اینکرکے طنزیہ سوال پر کرارا جواب، فیلڈ مارشل اور وزیراعظم کی حمایت سے مذاکرات میں بنیادی کردار اسحاق ڈار کا ہے، ایرانی لیڈر شپ کے دورہ پاکستان میں دونوں جانب سے گرمجوشی کا میں گواہ ہوں، پاکستان اسلام آباد میں آج کے مذاکرات میں سہولت کار کی بجائے ثالث بن جائیگا، بھارتی چینل کو انٹرویومیں سینئر صحافی کی پاکستان کی نمائندگی کو خوب سراہا جارہا ہے۔ شہادت سے کچھ عرصہ قبل آیت اللہ خامنہ ای نے بلوچستان میں دہشتگردی کے مسئلے پر بھی اپنا بھرپور کردار ادا کیا  ,تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر کی بھارتی ٹی وی چینل کو حالیہ انٹرویو کی ویڈیوان دنوں سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس میں ان کی پاکستان کی بھرپور نمائندگی کو خوب سراہا جارہا ہے۔ بھارتی صحافی کے طنزیہ سوال کہ پاکستان کی جانب سے عاصم منیرمذاکرات کو لیڈکررہے تھے یا شہباز شریف ؟اس پر حامد میر نے مسکراتے ہوئے فوری کرارہ جواب دیا کہ میں آپ کی جانب سے اس سوال کی توقع کررہا تھا ، درحقیقت اس پوری کوشش میں بنیادی کردار اسحاق ڈار کا ہے تاہم انہیں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کی مکمل حمایت اور اعتماد حاصل تھا۔حامد میر نے کہا کہ ابتدائی طور پر پاکستانی نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مارچ کے پہلے ہفتے ایران اور سعودی عرب کے درمیان پْل کا کردار ادا کیا اور پھر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کو کم کیا اور دیگر ممالک سے رابطوں کے ساتھ ساتھ چین کا بھی دورہ کیا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کے نہ صرف امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں بلکہ ایرانی صدر اور لیڈرشپ کے ساتھ بھی کافی گہرے تعلقات ہیں اور میں ان تعلقا ت کا گواہ ہوںکہ ایرانی لیڈر شپ کے پاکستان کے دورے کے دوران دونوں جانب کس قدر گرمجوشی تھی۔صرف یہی نہیں بلکہ پاکستانی قیادت کے چینی قیادت کے ساتھ بھی گہرے اور برادرانہ تعلقا ت ہیں جو پاکستان کو ایک منفرد حیثیت کا حامل ملک بناتے ہیں کہ بیک وقت تینوں ممالک کے ساتھ پاکستان کے بہترین تعلقات ہیں۔ٹرمپ کی غیر اخلاقی زبان کی وجہ سے صورتحال بگڑ گئی جس کے بعد چین نے ایران کو مذاکرات کیلئے آمادہ کیا جس کے بعد اب 10اپریل کو اسلام آباد میں دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات ہونگے اور پاکستان ان مذاکرات میں سہولت کار کی بجائے ثالث بن جائے گا۔حامد میر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے کردار کو نہ صرف امریکی و ایرانی لیڈر شپ بلکہ پوری دنیا سراہ رہی ہے،جہاں تک بات ہے کہ ثالث اور سہولت کار کی تو اس جنگ میں دو سے تین فریق تھے ،امریکا اور اسرائیل ایک طرف جبکہ دوسری جانب ایران تھااور بعد ازاں کچھ عرب ممالک نے امریکا اور اسرائیل کو جوائن کرلیا کیونکہ ایران عرب ممالک میں امریکی اڈوں پر حملے کررہا تھا،ثالث کیلئے ضروری ہے کہ اس کے تمام فریقوں سے تعلقات ہوں ،پاکستان کے اسرائیل کے ساتھ تو تعلقات نہیں ہیں ،اس لیے پاکستان کو امریکا اور ایران تک رسائی تھی،پاکستان مذاکرات میں امن اقدام کے تحت سہولتکاری کررہا تھا جو کہ جنگ شروع ہونے کے فوری بعد شروع ہوچکی تھی جس میں بعد ازاں ترکی اور مصر بھی شامل ہوگئے تھے ۔پاکستان نے جنگ شروع ہوتے ہی تمام فریقوں بشمول عرب ممالک کے رابطے شروع کردیے تھے جبکہ ایران سے درخواست کی تھی کہ چونکہ پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ ہے اس لیے اس کی تنصیبات پر حملے نہ کیے جائیں۔بھارتی صحافی کے پاکستانی وزیر اعظم کے ٹوئٹ کے حوالے سے سوال کے جواب میں حامد میرنے نہلے پر دہلا پھینکتے ہوئے جواب دیا کہ اگر آپ کے مطابق یہ ٹوئٹ وائٹ ہاؤس کی جانب سے ایک ہدایت تھی تو آپ ایرانی وزیر خارجہ کے بیان کے متعلق کیا کہیں گے جنہوں نے اپنے بیان کا اختتام "پاکستان زندہ باد"پر کیا؟۔پاکستان کو امریکا اور ایران کا بھرپور اعتماد حاصل تھا جبکہ ایرانی عوام سڑکوں پر پاکستانی پرچم تھامے اظہار تشکر کررہی تھی ،امریکی صدر ٹرمپ بھی وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو سراہ رہے تھے ،آپ پسند کریں یا ناپسند،اس وقت پاکستان ایک منفرد مقام پر تھاجہاں دونوں فریقوں کا بھرپور اعتماد اسے حاصل تھا۔ حامد میر کا کہنا تھا کہ ایران اور پاکستان کے تعلقات گذشتہ دو سالوں کے دوران کافی بہتر ہوئے ہیں اور اس کا کریڈٹ میں شہید آیت اللہ خامنہ ای کو دینا چاہتا ہوں کیونکہ ان کا پاکستان سے ایک منفرد تعلق اور احساسات تھے ،انہوں نے علامہ اقبال کی زندگی اور فلسفے پر ایک کتاب بھی لکھی ،مجھے یہ بات ایرانی اسپیکر نے پاکستان کے دورے کے دوران بتائی کہ آیت اللہ خامنہ ای نے اپنی جلاوطنی کے دوران کچھ عرصہ کراچی پاکستان میں بھی گزارا تاہم ایران عراق جنگ کے نتیجے میں پاکستان کے ایران کے ساتھ تعلقا ت متاثر ہوئے۔شہادت سے کچھ عرصہ قبل آیت اللہ خامنہ ای نے بلوچستان میں دہشتگردی کے مسئلے پر بھی اپنا بھرپور کردار ادا کیا کیونکہ کچھ بلوچ دہشتگرد تنظیمیں ایرانی سرزمین کو پناہ گا ہ کے طور پر استعمال کررہی تھیں،اس حوالے سے آیت اللہ خامنہ ای نے پاکستان کو اہم معلومات فراہم کیں جس کے نتیجے میں پاکستان کو اس مسئلے سے نمٹنے میں مدد ملی۔

اہم خبریں سے مزید