کراچی ( جنگ نیوز) نپولین بونا پارٹ نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ "کبھی اپنے دشمن کو اس وقت مت روکو جب وہ غلطی کر رہا ہو۔"شاید اس کا یہی قول حالیہ ہفتوں میں روس اور چین کے پالیسی سازوں کے ذہن میں رہا ہوگا، جب امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ جاری تھی۔ اب جبکہ ایران اور امریکہ کے درمیان 14روزہ جنگ بندی ہو چکی ہے، دونوں ممالک اسے اپنی کامیابی قرار دے رہے ہیں، لیکن ماسکو اور بیجنگ اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں ہیں۔جنگ کے دوران چین اور روس نے محتاط حکمتِ عملی اپنائی۔ انہوں نے ایران کو مکمل فوجی حمایت دینے کے بجائے محدود انٹیلی جنس اور سفارتی مدد فراہم کی، کیونکہ انہیں اندازہ تھا کہ ایران امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ طاقت کے مقابلے میں فتح حاصل نہیں کر سکتا—صرف زندہ رہنا ہی کافی تھا۔ اس جنگ نے عالمی طاقتوں کی سیاست میں امریکا کی پوزیشن کو کمزور کیا۔آئیے باری باری ان کا جائزہ لیتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ: امریکہ طویل عرصے سے مشرقِ وسطیٰ میں مختلف مفادات کے درمیان توازن قائم کرنے میں مشکلات کا شکار رہا ہے۔ اب اس کی ترجیح چین اور روس کے اثر و رسوخ کو محدود کرنا تھی۔لیکن شی جن پنگ اور ولادیمیر پوتن کے دور میں دونوں ممالک نے خطے میں اپنے تعلقات مضبوط کیے۔ چین نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات بحال کرانے میں کردار ادا کیا، جبکہ روس نے شام میں بشار الاسد کی حمایت کی۔ایران جنگ کے بعد خلیجی ممالک امریکا کو نا قابلِ اعتماد محافظ سمجھنے لگے ہیں اور متبادل شراکت داروں کی تلاش کر سکتے ہیں۔اسٹریٹجک اہداف سے توجہ ہٹنا؛امریکہ گزشتہ دو دہائیوں سے اپنی توجہ مشرقِ وسطیٰ سے ہٹا کر دیگر خطوں—خصوصاً انڈو پیسیفک—پر مرکوز کرنا چاہتا تھا۔