کراچی (نیوز ڈیسک)ایران کو ایسا امریکا نظر آیا جو مذاکرات کے بجائے شرائط مسلط کرنے کی کوشش کر رہا تھا،پاکستان میں 21 گھنٹے طویل مذاکرات ناکام، امریکا اور ایران میں معاہدہ نہ ہو سکا، جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز اہم تنازع، دونوں فریق اپنے مؤقف پر قائم، سفارت کاری جاری رکھنے کا عندیہ، نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والے تقریباً 21 گھنٹے طویل مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مذاکرات کے بعد کہا کہ ایران نے امریکا کی شرائط قبول نہیں کیں، اس لیے کوئی سمجھوتہ ممکن نہ ہو سکا۔ امریکی حکام کے مطابق مذاکرات میں سب سے بڑا تنازع ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے اور آبنائے ہرمز کے مستقبل کے حوالے سے تھا۔ امریکا کا مؤقف تھا کہ ایران کو جوہری سرگرمیاں مکمل طور پر روکنی چاہئیں، جبکہ ایران نے اس مطالبے کو مسترد کیا۔ ایرانی حکام نے کہا کہ وہ دباؤ کے تحت کسی معاہدے کو قبول نہیں کریں گے اور ان کے خیال میں امریکا مذاکرات کے بجائے اپنی شرائط مسلط کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ دونوں ممالک نے اگرچہ کسی پیش رفت کا اعلان نہیں کیا، تاہم اس بات کا اشارہ دیا گیا ہے کہ سفارتی رابطوں کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے اور مستقبل میں بات چیت کا امکان موجود ہے۔